سلووینیا میں ’ تارکینِ وطن نے خیمے جلا دیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تارکین وطن نے ریلیف کیمپوں میں کھانا، پانی اور کمبل کی کمی کی شکایات بھی کی ہیں

سلووینیا میں مبینہ طور پر تارکین وطن نے عارضی طور پر قائم کیمپوں کے کچھ خیموں کو آگ لگا دی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق رجسٹریشن کی سست رفتار عمل کے خلاف احتجاجاً تارکین وطن نے آسٹریا کے سرحد کے قریب قائم بریژیتسے کیمپ کے خیموں کو آگ لگا دی۔

تارکین وطن نے ریلیف کیمپوں میں کھانا، پانی اور کمبل کی کمی کی شکایات بھی کی ہیں۔

رواں سال پانچ لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کی یونان آمد

ہزاروں تارکینِ وطن بلقان میں سرحدوں پر محصور

ادھر آسٹریا میں پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی آسٹریا میں تقریباً ایک ہزار تارکین وطن اور پناہ گزیں سلووینیا کی سرحد کے نزدیک ایک ریسپشن مرکز توڑ کر شمال کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔

پولیس نے کہا کہ تارکین وطن کا یہ گروہ آسٹریا ریلیف کیمپوں میں لے جانے والی بسوں کا انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ہنگری نے کروشیا سے متصل سرحد بند کر دی ہے جس سے تارکین وطن اور پناہ گزین مغربی یورپ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اب تارکین وطن کی بڑی تعداد سلووینیا کا رخ کر رہی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دوسری جانب یونان میں کوسٹ گارڈ ساموس جزیرے کے قریب تارکین وطن کی الٹنے والی کشتی کی تلاش کر رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اس کشتی میں 14 افراد سوار تھے اور تیز بارش کے باعث حادثے کا شکار ہوگئی۔

ایک سال کے دوران ساموس میں 69 ہزار سے زائد افراد آئے ہیں، جو یونان کے جزیرے لیسبوس کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔

ادھر بلقان کے ممالک کے سربراہان کا یورپی یونین کے ساتھ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ صدر ژاں كلوڈ ينكر نے اتوار کو ایک اجلاس طلب ہے کیونکہ ’ایک ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے زیادہ تعاون، زیادہ مشاورت اور فوری طور پر کارروائی کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں