بن غازی حملے کی پوری ذمہ داری قبول کرتی ہوں: ہلیری کلنٹن

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بن غازی پر حملے سے متعلق کانگریس کی اس کیمٹی نے ان سے تقریبا دس گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی لیکن اس بارے میں کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آئیں

امریکہ کی سابق وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ سنہ 2012 میں لیبیا میں امریکی قونصیلٹ پر ہونے والے اس حملے کی وہ پوری ذمہ داری لیتی ہیں جس میں چار امریکی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے اس معاملے پر اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے محترمہ کلنٹن نے کہا کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے امریکی سفارت کاروں کی سلامتی کے لیے انھوں نے اصلاحات بھی متعارف کروائی تھیں۔

ہلیری کلنٹن کا ذاتی ای میل سرور ایف بی آئی کے حوالے

’میں چاہتی ہوں کہ عوام میری ای میل دیکھ سکیں‘

بن غازی پر حملے سے متعلق کانگریس کی اس کیمٹی نے ان سے تقریباً دس گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی لیکن اس بارے میں کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

اپنے ابتدائی بیان میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ انھوں نے ہی کرس سٹیونز کو لیبیا کا سفیر بنا کر بھیجا تھا۔ وہ تین دوسرے امریکیوں کے ہمراہ ہلاک ہو گئے تھے۔

انھوں نے کہا: ’حملے کے بعد میں جب امریکی فوجی ان کا تابوت اٹھا رہے تھے تو میں صدر اوباما کے پہلو میں کھڑی ہوئی تھی۔ میں اس کی پوری ذمہ داری لیتی ہوں، اور اسی لیے اپنا عہدہ چھوڑنے سے پہلے میں نے فیلڈ میں کام کرنے والے اپنے لوگوں کی سلامتی کے لیے بہت سی اصلاحات شروع کیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔‘

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر ہلاک ہونے والے افراد کو خراج پیش کر رہی ہیں لیکن جو لوگ یہاں موجود ہیں انھیں قومی سلامتی کو سیاست سے اوپر رکھنا چاہیے۔

یہ ہلیری کلنٹن کی اس معاملے پر کانگریس کے سامنے دوسری پیشی تھی۔ کانگریس میں رپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔

کلنٹن کا کہنا ہے کہ یہ ان کی صدارتی مہم کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔ لیکن کمیٹی کے چیئرمین رپبلکن پارٹی کے ٹرے گاؤڈی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں اس معاملے کا سچ سامنے آئے۔

لیبیا کے شہر بن غازی میں 11 ستمبر سنہ 2012 میں ایک امریکی قونصلیٹ پر مشتبہ اسلامی عسکریت پسندوں کی جانب کیے جانے والے حملے پر کانگریس کی جانب سے پہلے سے ہی سات دفعہ تحقیقات کی جا چکی ہیں۔

اسی بارے میں