فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کا سانجھا خوف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کچھ لوگ خوفزدہ ہیں کہ کوئی ان پر حملہ نہ کر دے اور دوسروں کو یہ خوف ہے کہ انھیں دہشتگرد سمجھ کر گولی نہ مار دی جائے

یروشلم یا بیت المقدس کے بارے میں ہر کسی کا خیال یہی ہے کہ یہ ایک منقسم شہر ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے۔

اس تاریخی شہر کی اسرائیلی اور فلسطینی آبادیاں اپنی اپنی زبان، مذہب، ثفاقت، سیاست اور تایخ کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جدا ہیں۔

اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ اس مقدس شہر کے حوالے سے دونوں آبادیوں کی سیاسی اور علاقائی امنگیں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

لیکن بسا اوقات جب اس شہر میں کشیدگی اور اموات میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ دو آبادیاں جو عموماً ایک دوسرے کے متوازی اپنی اپنی زندگی گزار رہی ہوتی ہیں، ان دونوں میں ایک قدر مشترک بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

ایک خوف دونوں آبادیوں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے اور وہ خوف یہ ہے کہ میرے گھر والوں کا کیا ہوگا، کیا میرے بچے محفوظ ہیں؟

میں شہر کے ایک یہودی علاقے آرمون ہناتز میں ’دووی سنگل‘ اور ’ناما سنگل‘ سے ملا، جو میاں بیوی ہیں اور ان کے چار بچے بھی ہیں۔ شہر کا یہ علاقہ چونکہ قدرے بلندی پر واقع ہے، اس لیے آپ ان کے فلیٹ کی کھڑکیوں سے قریب کی مساجد کے مینار بھی دیکھ سکتے ہیں اور فلسطینی آبادی والے ’جبل مکابر‘ اور ’سرباہر‘ کے محلے بھی۔

Image caption دووی اور ناما کو خوف ہے کہ ان کے چار بچوں کا کیا ہو گا

یہودیوں اور فلسطینیوں کے یہ تینوں محلے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، اس لیے اس شہر میں باہر سے آنے والوں کو یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ ان محلوں کے رہائشی ایک دوسرے کو ہر روز بازاروں، بینکوں اور پارکوں میں گھومتے بھی دیکھتے ہیں۔

یہ دونوں یہودی میاں بیوی نہ صرف یہ تسلیم کرتے ہیں کہ فلطسینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تعلقات اچھے ہونے چاہئیں بلکہ یہ دونوں اس مقصد کے لیے کام بھی کرتے ہیں۔ لیکن دووی بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آج کل شہر میں دونوں آبادیاں آپس میں لڑ رہی ہیں۔

دووی کے بقول ’ آج کل جو مسئلہ مجھے ہر وقت گھیرے رہتا ہے وہ یہ خوف ہے کہ میرے بچوں کا کیا ہو گیا ہے۔‘

’ہمارے چار بچے ہیں، اور اگر بچے دو بھی ہوتے تو تب بھی اس بات کے امکانات کتنے ہیں کہ میں اپنے بچوں کی حفاظت کر پاؤں گا؟ یہ خیال ہی مجھے تقریباً مفلوج کر دیتا ہے کہ ضرورت پیش آنے پر شاید میں اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کر نہ سکوں گا۔‘

دووی نے مجھے بتایا کہ ان کے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جنھوں نے زندگی بھر بندوق نہیں رکھی، لیکن اب وہ لوگ بھی بندوق کے لائسینس کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں۔ دووی کہتے ہیں کہ وہ بھی زندگی میں پہلی مرتبہ بندوق کے لائسینس کا سوچ رہے ہیں۔

’میں بالکل نہیں چاہتا ہے کہ میرے گھر میں بھی بندوق ہو ، اسی لیے میں کبھی بندوق کا نہیں سوچا، لیکن اب میں بھی سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ میرے گھر میں بھی کسی قسم کا ہتھیار ضرور ہونا چاہیے۔‘

’وہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں؟‘

عسّاویہ کا علاقہ یروشلم کی میونسپلٹی کی حدود کے آخری کنارے پر واقع ہے۔ یہ ان کئی فلطسینی دیہاتوں میں سے ایک ہے جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اور وہ تب سے اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

Image caption اسرائیلی مجھے ایسے دیکھتے ہیں جیسے میں ان پر حملہ کرنے والا ہوں: بسام عبید

آج کل کی بات الگ ہے، لیکن اچھے دنوں میں بھی شہر کے اِس علاقے کے لوگوں میں اسرائیلی قبضے کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ بیت المقدس کے نواح میں واقع اس قسم کے محلوں یا دیہاتوں کے فلسطینی رہائشیوں کو بھی وہی ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں جو مغربی یروشلم کے اسرائیلیوں کو دینا پڑتے ہیں، لیکن اِس علاقے میں حکومت انھیں وہ سہولتیں مہیا نہیں کرتی جو مغربی یروشلم کے یہودیوں کو دستیاب ہیں۔

عسّاویہ کے فلسطینی اپنی گلیوں اور سڑکوں کی حالت زار دکھاتے نہیں تھکتے اور نہ ہی علاقے میں بچوں کے کھیل کود اور دیگر تفریحی مقامات کی قلت کا رونا روتے تھکتے ہیں۔

ایک شخص نے مجھے بتایا کہ ’ شہر کے یہودی علاقوں میں لوگوں کے پاس اپنے کتّوں کے لیے مخصوص پارک موجود ہیں، اور ہمارے پاس اپنے بچوں کے لیے بھی کوئی پارک نہیں۔‘

لیکن کشیدگی کے دنوں میں لوگوں کی تنقید کے نشتر زیادہ تیز ہو جاتے ہیں۔

عسّاویہ میں داخل ہونے والی سڑک پر اسرائیلی فوج کی ایک بڑی چوکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص چوکی پر کھڑے فوجیوں کی جانب پتھر بھی پھینک دے تو یہ لوگ سڑک بند کر دیتے ہیں اور یروشلم سے واپس گھر آنے والے لوگوں کو اپنی گاڑیوں میں ایک ایک گھنٹہ چوکی پر انتظار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے سے جس طرح یروشلم کی فضا تبدیل ہوئی ہے، ہر کوئی آج کل اسی کی بات کرتا ہے۔

عسّاویہ کے ایک رہائشی بسام عبید بھی ہیں جو مغربی بیت المقدس کے ایک ہوٹل میں باورچی ہیں، جہاں فلسطینی اور اسرائیلی دونوں قوموں کے افراد ملازم ہیں۔

معاشی وجوہات کے پیش نظر بہت سارے فلسطینیوں نے عبرانی سیکھ لی ہے اور بسام نے بھی یہی کیا ہے۔ بسام کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کے ہوٹل میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے تعلقات بہت اچھے ہیں، لیکن اب کچھ اسرائیلی ایسے ہیں جنھوں نے تمام فلسطینیوں کو اِس نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے جیسے وہ تمام خود کش بمبار ہوں۔

Image caption آجکل بہت سے اسرائیلی اپنے بچاؤ کے لیے بندوقیں، پستول اور دیگر اسلحہ خرید رہے ہیں

’جب انھیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہم عرب ہیں یا وہ ہمیں ہمارے خاص لہجے کی وجہ سے پہچان لیتے ہیں تو پھر وہ ہمیں گھُورنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ ہمیں اپنے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ جان کر ہمیں کوئی خوشی نہیں ہوتی، بلکہ دکھ ہوتا ہے۔‘

’میں بھی اپنے ارد گرد کے لوگوں کو دیکھتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی مجھے اُسی نظر سے دیکھیں۔ میں کسی شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ نہیں سوچتا کہ وہ شخص کیا سوچ رہا ہے۔ جیسے میں کسی ایسے شخص کو دیکھ رہا ہوں جو کسی بھی وقت دہشتگردی کر سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں