نیٹو کی پچھلے دس برس کی سب سے بڑی جنگی مشقیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نیٹو کی افواج میں شامل 36 ہزاروں فوجیوں پر مشتمل بحری، بری اور فضائی دستے اگلے چند ہفتوں میں پرتگال، اٹلی اور سپین میں ہونی والی گذشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی جنگی مشقوں میں حصہ لیں گے۔

معاہدۂ شمالی بحر اوقیانوس میں شامل ملکوں کے حکام ان فوجی مشقوں کو بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔

نیٹو کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل الیگزینڈر ورش باؤ کا کہنا تھا کہ نیٹو ایک دفاعی اور فوجی اتحاد ہے اور کسی بھی ممکنہ فوجی خطرے سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

بی بی سی کے نمائندے جوناتھن بیل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’نیٹو ایک دفاعی ادارہ ہے اور ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھرپور دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

اتنے وسیع پیمانے پر کی جانے والی فوجی مشقوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد روس کو باور کرنا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ الجھنے کی کوشش نہ کرے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ اس دہائی کی نیٹو کی سب سے بڑی جنگی مشقیں ہیں

انھوں نے کہا کہ انھیں پوری امید ہے کہ روس کو مناسب پیغام مل جائے گا۔

ان فوجی مشقوں کو یورپ کے جنوبی ملکوں میں منعقد کرانے کا ایک اور مقصد یہ ہے کہ نیٹو روس کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہے کہ نیٹو اپنی مشرقی سرحدوں اور یوکرین میں پیدا ہونے والی صورت حال کے ساتھ ساتھ ترکی کی سرحدوں پر روس فوجی کارروائی کے بارے میں پوری سنجیدگی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

حال ہی میں ماسکو نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک امریکی ڈرون کو شام کی فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

روسی جنگی جہاز سے بنائی جانے والی اس ویڈیو کے جاری کرنے سے ماسکو بظاہر یہ دکھانا چاہتا ہے کہ امریکی طیارے شام کی فضائی حدود میں کھلے عام پرواز کرتے ہیں۔

گذشتہ ماہ روس کے جنگی طیاروں نے شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جس پر ترکی اور نیٹو کی طرف سے زبردست رد عمل سامنے آیا تھا۔

روس کے جنگی طیارے مسلسل شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی مخالف تنظیموں پر فضائی بمباری کر رہے ہیں۔

روس کی طرف سے شام میں فضائی کارروائیاں شروع کرنے سے اس علاقے میں امریکہ اور نیٹو افواج کے جنگی طیاروں میں مڈبھیڑ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اسی بارے میں