جیب بُش کی انتخابی مہم خطرے میں پڑ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جیب بش اپنے سیاسی گھرانے کے نام پر بھی انحصار کر رہے ہیں

ریاست فلوریڈا کے سابق گورنر اور ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار جیب بش کی انتخابی مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عملے کی تنخواہوں میں کمی کر رہے اور انتخابی مہم میں سفر کے اخراجات بھی کم رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق صدر جارج بش کے چھوٹے بھائی کے صدارتی امیدوار بننے اور وہائٹ ہاؤس میں پہنچنے کے امکانات شاید معدوم ہو گئے ہیں۔

جیب بش کی مہم میں شامل کارکنان کو جمعے کو بتایا گیا تھا کہ ان کو جو معاوضہ دیا جا رہا تھا اس میں 40 فیصد کی کمی ہونے جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ ریاست میامی میں واقع جیب بش کے مرکزی انخابی دفتر کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کمی کی جا رہی ہے، جس کے بعد کئی افراد نے دوسرے مقامات پر کم آمدن پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے حتمی صدارتی امیدوار بننے کے لیے جیب بش اپنے سیاسی گھرانے کے نام اور اس بات پر انحصار کر رہے تھے کہ انھیں ریپبلکن پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن اب انھیں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ حالیہ انتخابی جائزوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور بین کارسن جیسے اسٹیبلشمنٹ کے مخالفین ان سے آگے نظر آتے ہیں۔

پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران رواں سال کے تیسری سہ ماہی میں جیب بش ایک کروڑ 34 لاکھ ڈالر جمع کر پائے تھے، جو کہ اس رقم سے خاصی کم ہے جو انھوں نے اپنی مہم کی ابتدا میں اکھٹی کی تھی۔ اب ان کے پاس خرچ کرنے کے لیے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر بچے ہیں۔

جیب بش ریپبلکن پارٹی کے وہ واحد صدارتی امیدوار نہیں ہیں جنھوں نے اپنے کارکنوں کی تنخواہوں میں کمی کی ہے، بلکہ وِسکونسن کے سابق گورنر سکاٹ واکر بھی ایسا کر چکے ہیں۔ سکاٹ واکر کے علاوہ ٹیکسس کے سابق گورنر رِکی پیری انتخابی مہم کے شروع میں ہی فنڈز کی قلت کا شکار ہو گئے تھے جس کے بعد وہ اس دوڑ سے باہر ہو گئے تھے۔

جیب بُش کی مہم کو فنڈز کی قلت کی خبر پر سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایلن ابراہموٹز کا کہنا ہے کہ ’ یہ بات کسی بھی صدارتی امیدوار کے لیے اچھی نہیں ہوتی کہ اسے اپنے کارکنوں کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنا پڑ جائے۔‘

’اور اس قسم کی خبر جیب بش جیسے امیدواروں کے لیے خاص طور پر بری ہے کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ وہ اتنے زیادہ فنڈز جمع کر لیں کہ ’باقی امیدوار ان سے ڈر کر ہی مہم سے باہر ہو جائیں۔‘

’ان کی یہ خواہش تو پوری نہیں ہوئی لیکن یہ خبر ان کے لیے خاصی بری ہے کہ وہ حالیہ انتخابی جائزوں میں بھی باقی امیدواروں سے مار کھا رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں