پولینڈ کے پارلیمانی انتخابات میں قدامت پسند پارٹی کی برتری

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption قدامت پسند پارٹی نے وزیراعظم ایوا کے مقابلے کے لیے بیاٹا شیڈلو کو میدان میں اتارا تھا

پولینڈ کی قدامت پسند جماعت لا اینڈ جسٹس پارٹی نے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

رائے عامہ کے اندازوں کے مطابق یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ اس جماعت نے 39 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جو کہ اکیلے حکومت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

لا اینڈ جسٹس پارٹی کے رہنما یاروسلاف کیچنسکی نے کامیابی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ جانے والے وزیر اعظم ایوا کوپیچ نے ناکامی تسلیم کر لی ہے۔

خیال رہے کہ مئی میں صدر کے انتخاب میں لا اینڈ جسٹس پارٹی کے آندرے ڈوڈا کو کامیابی ملی تھی۔

نامہ نگار ایڈم ایسٹن کے مطابق اگر نتائج کے اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پولینڈ میں سنہ 1989 میں جمہوریت کے قیام کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ کوئی بھی جماعت اتنی نشتوں کی حامل ہو جائےگی کہ وہ اکیلے حکومت بنا سکے۔

نامہ نگار کے مطابق پولینڈ کے بہت سے باشندے حکومت کی خراب کارکردگی سے ناخوش ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس نے مراعات کی غیرمساوی تقسیم کی ہے۔

لا اینڈ جسٹس پارٹی کو دیہی علاقوں کے ان لوگوں میں زبردست حمایت حاصل ہے جو ملک کے بااختیار رومن کیتھولک چرچ سے وابستہ ہیں۔

سوک پلیٹ فارم کو بدنامی کا سامنا رہا ہے اور ان کے بہت سے رہنما گذشتہ سال کن سوئیاں لینے کے سکینڈل میں پکڑے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولینڈ کے بہت سے باشندے حکومت کی خراب کارکردگی سے ناخوش ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس نے مراعات کی غیرمساوی تقسیم کی ہے

جبکہ جمعے کو نائب وزیر انصاف مونیکا زبرویوسکا کو شراب پی کر کار چلانے کے جرم میں برطرف کیا گیا ہے۔

انتخابات سے قبل یورپ میں تارکین وطن کا بحران بھی بحث و مباحثے کا اہم موضوع رہا۔ حکومت نے جہاں 7000 پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے، وہیں حزب اختلاف نے اس کی مخالفت کی ہے۔

گذشتہ ہفتے مسٹر کیچنسکی پر اس لیے تنقید کی گئی کہ انھوں نے تارکین وطن کے بارے میں یہ کہا تھا کہ وہ پولینڈ میں بیماریاں لائیں گے اور ملک پر بوجھ ڈالیں گے۔

خیال رہے کہ 66 سالہ کیچنسکی وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں اور انھوں نے اپنی جگہ اپنی رشتے دار بیاٹا شیڈلو کو پارٹی کی پسند کے طور پر نامزد کیا ہے۔

جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر لا اینڈ جسٹس پارٹی زبردست کامیابی حاصل کرتی ہے تو مسٹر کیچنسکی خود ہی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔

اسی بارے میں