یمن میں فضائی حملے میں ایم ایس ایف کا ہسپتال تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ Medecins Sans Frontieres
Image caption میریم چیک کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی عمارت 99 فیصد تباہ ہو چکی ہے

عالمی امدادی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کا کہنا ہے کہ شمالی یمن میں کئی فضائی حملوں میں ان کا ایک ہسپتال تباہ ہوگیا ہے۔

عالمی تنظیم کے مطابق پیر کو ہونے والے پہلے حملے میں صدا صوبے میں ان کی ایک عمارت جو استعمال میں نہیں تھی کو نقصان پہنچا۔تاہم دس منٹ بعد ہونے والے دوسرے حملے سے قبل تمام اہلکاروں اور مریضوں کو وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔

’عرب اتحادیوں کے باعث یمن کی امداد میں خلل‘

یمنی بچہ جنگ میں انسانی قیمت کی چلتی پھرتی علامت

منگل کو ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد ایم ایس ایف کی صدا میں پراجیکٹ کوآرڈینیٹر میریم چیک نے بتایا کہ ’میں اندر نہیں جا سکی کیوں کہ ہمیں ڈر تھا کہ اندر کچھ ایسے بم ہو سکتے ہیں جو پھٹے نہ ہوں، لیکن میں اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کے عمارت 99 فیصد تباہ ہو چکی ہے۔‘

یمن میں حوثی باغیوں کے ساتھ لڑنے والے سعودی اتحادیوں کی جانب سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

مارچ سے اب تک یمن میں جاری اس تنازع میں اب تک 5600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عام شہریوں کی تعداد 2615 ہے۔

منگل کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں ایک تہائی تعداد اتحادیوں کی جانب سے کی جانے والی فضائی کارروائی کے نتیجے میں جبکہ باقی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

صدا صوبے کے ضلع حیدان میں واقع امدادی تنظیم کا یہ ہسپتال جان پچانے کی سہولیات فراہم کرنے والا واحد ہسپتال اور یہاں تقریباً دو لاکھ افراد کو امداد فراہم کی جا چکی ہے اور ایک ہفتے کے دوران 150 کے قریب زخمی افراد کو لایا جاتا ہے۔

ایم ایس ایف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہسپتال میں موجود اہلکاروں اور دو داخل مریض پیر کی شب ہونے والے پہلے اور دوسرے فضائی حملے کے دوران عمارت سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

عمارت سے نکلنے کے دوران ہسپتال کے ڈائریکٹر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں