برطانوی ماہرین تعلیم کا اسرائیلی تعلیمی اداروں کا ’بائیکاٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلسطین کے حق میں عام طور پر مظاہرے ہوتے رہتے ہیں لیکن اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کی بات شاذونادر کے زمرے میں آتی ہے

برطانیہ کے سینکڑوں ماہرین تعلیم نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مخالفت میں اسرائیلی تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کریں گے۔

’دی گارڈین‘ اخبار میں 72 تعلیمی اداروں کے 343 ماہرین تعلیم کے دستخط کے ساتھ یہ اعلان شائع ہوا ہے۔

تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ان ماہرین تعلیم نے کہا کہ وہ اپنی انفرادی حیثیت میں اسرائیلی کولیگز کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔

دی گارڈین میں یہ اعلان پورے صفحے پر شائع ہے جسے ’فلسطینوں کے حقوق کے لیے برطانوی سکالز کے عہد‘ کا نام دیا گيا ہے۔

اس اعلان میں کہا گیا ہے: ’ہم لوگ فلسطینی زمین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے اور اس مسئلے کے ممکنہ حل کی اسرائیل مخالفت سے بہت پریشان ہیں۔ اس کے تحت انسانی حقوق کی ناقابل برداشت پامالی ہو رہی ہے اور اس سے فلسطین میں تمام شعبے کے افراد متاثر ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف مظالم کے الزامات لگتے رہے ہیں

انھوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کے تعلیمی اداروں سے ملنے والے دعوت ناموں کو قبول نہیں کریں گے اور ان کے زیر اہتمام منعقد کیے جانے والے کسی پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا: ’ہم لوگ اس پر اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک اسرائیل پوری طرح عالم قانون کو نہیں مانتا اور انسانی حقوق کے آفاقی اصول کا پاس نہیں رکھتا۔‘

اس بائیکاٹ کے ترجمان اور لندن سکول آف اکانومکس کے جوناتھن روزین ہیڈ نے کہا کہ ’اسرائیل کی یونیورسٹیاں اسرائیل کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی پامالیوں اور فلسطینویں پر جبر و ظلم کے قالب ہیں۔‘

خیال رہے کہ اس سے ایک ہفتے پہلے تقریبا 150 مصنفین اور فنکاروں نے ایک خط پر دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ نہیں ہونا چاہیے۔

ان مصنفین کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے ’تنہا اسرائیل کا بائیکاٹ کرنا متنازع اور تقسیم کرنے والا ہے۔‘

اسی بارے میں