’وہ غیرمہذب بدّو نہیں چالاک اور ماہر منصوبہ ساز ہیں‘

Image caption جیک کے مطابق دلچسپ بات یہ تھی کہ اغوا کنندگان ان کے عیسائی عقائد کے بارے میں متجسس نظر آتے تھے

تین ماہ تک نام نہاد دولت اسلامیہ کی قید میں رہنے والے شامی پادری نے پہلی مرتبہ اپنی قید کا احوال سنایا ہے۔ جیک مراد کو رواں سال مئی میں وسطی شام کے شہر القریتین سے قدیم خانقاہ (سینٹ ) ایلیان میں کام کرنے والے رضاکار بطروس حنہ کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا۔

فادر جیک نے بی بی سی عربی کو اپنی قید کا تمام احوال سنایا ہے۔

جیک مراد نے بتایا کہ اغوا کنندگان نے گاڑی میں بٹھانے سے قبل ان کے اور بطروس کے ہاتھ باندھ دیے تھے اور آنکھوں پر بھی پٹی باندھ دی گئی تھی اور اس کے بعد وہ گاڑی ’القریتین کے گرد واقع پہاڑیوں‘ میں نامعلوم مقام کے طرف روانہ ہوگئی تھی۔

’دولت اسلامیہ کے قبضے سے درجنوں یرغمالی بازیاب ‘، ایک امریکی فوجی ہلاک

چار روز بعد ایک اور طویل سفر پر روانہ کرنے سے قبل دونوں افراد کے ساتھ پھر وہی سلوک دہرایا گیا اور ایک بار پھر ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی۔

اس سفر کے اختتام پہ رقّہ ان کی منزل ثابت ہوا جو کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے زیر اثر ہے اور وہاں انھیں 84 دنوں تک قید رکھا گیا تھا۔

جیک مراد بتاتے ہیں کہ دوران قید ان دونوں کو مسلسل خوراک اور طبی امداد فراہم کی گئی تھی اور ان پر تشدد بھی نہیں کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جو بات زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوئی وہ ان کی بدکلامی تھی۔

جیک مراد اور بطروس حنہ کو بار بار ’کافر‘ کہہ کر پکارا جاتا رہا اور انھیں کہا گیا کہ وہ ’اسلام‘ جیسے سچے مذہب سے بھٹک گئے ہیں، خاص طور پر ’نام نہاد دولت اسلامیہ کے تشریح کردہ اسلام سے۔‘

جیک کے مطابق دلچسپ بات یہ تھی کہ اغوا کنندگان ان کے عیسائی عقائد کے بارے میں متجسس نظر آتے تھے۔

وہ بتاتے ہیں ’وہ مجھ سے میرے علمِ الٰہیات، خدا، مقدس تثلیث، یسوع مسیح، اور تصلیب کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔‘

ان کا خیال تھا کہ ان باتوں کے بارے میں جواب دینے کی کوشش کرنا بےکار تھا۔

فادر جیک سوچتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کسی ایسے فرد سے بحث کرنے کا کیا فائدہ جنھوں نے آپ کو قید کیا ہوا ہو اور ان کی بندوق کا رُخ بھی آپ کی سمت ہو؟

’جب مجھے جواب دینے کے لیے مجبور کیا جاتا تو میں کہتا کہ میں اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔‘

دوران قید جو شدت پسند انھیں ملے وہ ان قیدیوں کو دھمکی دیتے تھے کہ اگر انھوں نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا تو انھیں جان سے مار دیا جائے گا۔

فادر جیک بتاتے ہیں ’ان کے نزدیک اسلام قبول کرنے سے میرے انکار کے بعد میرا مقدر موت تھی۔ ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے وہ ہمیں تفصیل سے بتاتے کہ ہماری موت کیسے ہوگی۔محض الفاظ کے ذریعے منظرکشی کرکے دہشت زدہ کرنے میں وہ واقعی مہارت رکھتے تھے۔‘

پادری کہتے ہیں کہ اس تجربے کے بعد ان کا عقیدہ اور بھی پختہ ہوگیا ہے حالانکہ ایسا بھی وقت آیا تھا جب انھیں یقین ہو گیا تھا کہ ان کا سر قلم کر دیا جائے گا۔

Image caption القریتین کی لڑائی کے بعد دولت اسلامیہ نے قصبے کی خانقاہ کو مالِ غنیمت کے طور پر ضبط کر کے تباہ کر دیا تھا

وہ بتاتے ہیں ’84 ویں دن، یعنی آخری دن ایک عرب سردار آئے اور ہم سے کہنے لگے کہ القریتین کے عیسائی ہمیں آپ کے حوالے سے پریشان کر رہے ہیں اور آپ کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس لیے چلیں، آگے بڑھیں۔

’ہم پہلے پیلمائرا اور سوینا کے درمیان سے گزرے اور پھر گاڑی ایک سرنگ میں داخل ہوگئی۔ ہمیں گاڑی سے باہر نکالا گیا اور پھر عرب سردار مجھے ہاتھ سے پکڑ کے ایک آہنی دروازے کی جانب لے گئے۔ انھوں نے دروازہ کھولا تو میں نے دیکھا کہ میرے کلیسائی حلقے کے دو افراد وہاں کھڑے ہیں۔‘

وہ ان سے بغل گیر ہوگئے اور پھر جب فادر جیک نے سر اٹھایا تو انھوں نے حیرت انگیز منظر دیکھا۔

’القریتین کے تمام عیسائی، میرے کلیسائی حلقے کے تمام افراد، میرے بچے وہاں موجود تھے۔ وہ لوگ حیران بھی تھے اور خوش بھی۔ وہ سب میرے گلے لگ گئے۔‘

ان کی قید کے دوران القریتین کا قصبہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ آگیا تھا۔

ان سب کو مزید 20 دنوں تک قید میں رکھا گیا تھا۔

آخر کار 31 اگست کے روز فادر جیک کو نام نہاد دولت اسلامیہ کے کئی عالمین کے سامنے پیش کیا گیا۔

وہ پادری تک القریتین کے عیسائیوں کے مستقبل کے بارے میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کا فیصلہ پہنچانا چاہتے تھے۔

تمام افراد کی ہلاکت اور خواتین کو غلام بنانے سمیت کئی ممکنات میں سے کچھ بھی ان کا مقدر ہو سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جیک مراد کے خیال میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو بیوقوف بنانا آسان نہیں تھا

ان سب کے بجائے نام نہاد دولت اسلامیہ کے سربراہ نے عیسائیوں کے لیے ’اسلامی ریاست کے زیر قبضہ علاقوں میں شہریوں کے حیثیت سے رہنے کے حق‘ کا انتخاب کیا۔جس کا مطلب تھا کہ وہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے مشروط تحفظ کے تحت اپنے علاقے، اپنی دولت و جائیداد ، اور اپنے گھر واپس لوٹ سکتے تھے۔

فادر جیک نے القریتین کے گرجا گھروں اور وہاں کی خانقاہ کے بارے میں پوچھے گئے تمام سوالات کا جواب دیا لیکن اپنے بیان میں سے سینٹ ایلیان کی قبر کا ذکر اس خیال سے حذف کر دیا کہ شاید اس طرح وہ اسے تباہ ہونے سے بچانے میں کامیاب ہو جائیں۔

لیکن نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو بیوقوف بنانا آسان نہیں تھا۔

فادر جیک کہتے ہیں ’وہ سب جانتے ہیں، تمام تفصیلات۔ ہمارا ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ غیر مہذب بدو ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، وہ چالاک، پڑھے لکھے، اور یونیورسٹی کی ڈگری رکھنے والے لوگ ہیں جو باریک بینی سے منصوبہ بندی کرنے کے ماہر ہیں۔‘

جیک کی قید کے دوران القریتین کی لڑائی کے بعد خانقاہ کو نام نہاد دولت اسلامیہ نے لوٹ کے مال کے طور پر ضبط کر کے تباہ کر دیا تھا۔

نام نہاد دولت اسلامیہ کے عالمین نے انھیں القریتین کے عیسائیوں اور اسلامی ریاست کے مابین ہونے والے معاہدے کی شرائط باآواز بلند پڑھ کر سنائیں۔

معاہدے کے تحت وہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ علاقے میں موصل تک کہیں بھی سفر کرنے میں آزاد تھے لیکن حمص یا ماہن نہیں جا سکتے تھے ( یہ علاقے قریب تو تھے لیکن نام نہاد دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ حصے سے باہر تھے)۔ پادری بتاتے ہیں ’کیونکہ ان کے لیے نزدیک وہ علاقے دین کے خلاف تھے۔‘

بعد میں فادر جیک اور ان کے ہمراہ رضاکار بطروس حنہ بھی نام نہاد دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ علاقے سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

پادری بتاتے ہیں ’وہ علاقۂ جنگ ہے۔ ایک طرف فضائیہ کی جانب سے حملے کیے جارہے ہیں دوسری جانب ہم القریتین میں محفوظ نہیں ہیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں وہاں رکا رہا تو لوگ بھی وہاں سے نہیں جائیں گے۔ اس لیے مجھے لگا کہ دوسروں کو وہاں سے نکلنے کی ترغیب دینے کے لیے مجھے بھی وہاں سے نکل جانا چاہیے۔‘

تاہم ان کے وہاں سے نکل آنے کے بعد زیادہ لوگوں نے ان کی پیروی نہیں کی۔

فادر جیک کہتے ہیں ’اصل میں کئی افراد وہاں رکنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔ چند ایسے ہیں جو بےگھر ہونے پر اپنے گھر میں مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔باقی لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ ان کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے ان کی حفاظت کرے گی۔‘

فادر جیک کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب افراد القریتین میں رہ گئے ہیں۔

پادری کہتے ہیں ’وہ اس لیے وہاں ٹھہر گئے ہیں کیونکہ وہ ایسا ہی چاہتے ہیں۔ ہماری خدا سے دعا ہےکہ وہ ان کی حفاظت کرے کیونکہ ہمارا قصبہ ایک خطرناک علاقہ جنگ ہے۔ وہاں کوئی جائے پناہ نہیں، کوئی جگہ محفوظ نہیں۔‘

اسی بارے میں