ترک انتخابات اور معیشت کی بہتری کے وعدے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پہلی جنگِ عراق جیتنے والے صدر بش سینئیر کو شکست دینے کے بعد صدر کلنٹن نے اُن پر پھبتی کسی تھی کہ عام آدمی کو دنیا فتح کرنے سے زیادہ اپنی جیب کی فکر ہوتی ہے۔

درحقیقت انھوں نے معیشت کو سب سے بڑا مسئلہ اسی لیے قرار دیا تھا کہ الیکشن میں سیاسی جماعتیں اسی معاملے پر یا تو کارکردگی دکھا کر یا پھر آسمان سے تارے توڑ لانے کے وعدے پر ووٹ حاصل کرتی رہی ہیں۔

’ہم ایک عام زندگی چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں مل رہی‘

اتوار کے ترک الیکشن بھی یقیناً کوئی استثنٰی نہیں ہیں۔

ترک معیشت رواں دواں تو ہے لیکن اس کا پہیہ کچھ آہستہ ہوتا جارہا ہے۔ ترقی کی شرح پانچ برسوں میں تقریباً دس فیصد سے گر کر تین فیصد تک آگئی ہے۔ وجہ ہے ترکی کے پڑوس کے حالات۔ شام کا بحران لاکھوں پناہ گزینوں کے ساتھ بری معاشی خبریں بھی لایا ہے۔

طویل عرصے سے ترکی میں مقیم پاکستانی نژاد صحافی فرقان حمید کہتے ہیں کہ شام کی خانہ جنگی نے ترکی کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر اردوغان کی 13 برس سے برسراقتدار جماعت اے کے پارٹی سب سے زیادہ اپنی معاشی کامیابیوں کا ہی ذکر کرتی رہی ہے

اُن کا کہنا تھا کہ اقتصادی دباؤ کے ساتھ ساتھ بڑی طاقتوں سے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں اور روس سے تو رشتے مزید بگڑ رہے ہیں، ایسے میں اندرونِ ملک استحکام انتہائی ضروری ہے۔

فرقان حمید کے بقول موجودہ حالات میں اگر مخلوط حکومت بنی تو اس سے سیاسی عدم استحکام ہی پیدا ہوگا جس کے معیشت پر منفی اثرات پڑیں گے۔

صدر اردوغان کی 13 برس سے برسراقتدار جماعت اے کے پارٹی سب سے زیادہ اپنی معاشی کامیابیوں کا ہی ذکر کرتی رہی ہے۔

انقرہ یونیورسٹی میں سیاسی معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر بینن ایرس کے مطابق جو معاشی خوشحالی نجکاری اور بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں سے پیدا ہوئی تھی، وہ ملکی اور علاقائی استحکام کے بغیر کبھی بھی جاری نہیں رہ سکتی۔

ڈاکٹر بینن ایرس کہتےہیں کہ اُن کے خیال میں تو اے کے پی یا کسی بھی حکومت کے لیے شاید آئندہ 15، 20 برسوں تک معاشی کامیابی کو عوامی حمایت کے لیے استعمال کرنا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کا بحران لاکھوں پناہ گزینوں کے ساتھ بری معاشی خبریں بھی لایا ہے

ترک معیشت میں روزگار کے سب سے زیادہ مواقع تعمیراتی شعبہ پیدا کرتا ہے۔ علاقائی صورتحال نے نہ صرف کنسٹرکشن بلکہ مالی خدمات اور موٹر انڈسٹری کو بھی بری طری متاثر کیا ہے۔

ترکی گو کاریں بنانے والا دنیا کا 16واں بڑا ملک بن چکا ہے لیکن لاکھوں لوگوں کو روزگار دینے والے اس شعبے کو بھی علاقائی صورتحال سے پیدا ہونے والے معاشی چیلنجوں سے خطرہ درپیش ہے۔

اس مجموعی تناظر میں یقیناً ہر ترک ووٹر کے ذہن میں یہ سوال ابھر رہا ہوگا کہ وہ جس حکومت کو اقتدار سونپےگا، کیا وہ اندرون اور بیرونِ ملک ان تمام چیلنجوں سے اس کا تحفظ کرتے ہوئے اُسے معاشی آسودگی بھی دے سکے گا یا نہیں؟

اسی بارے میں