ووکس ویگن کو سکینڈل کے بعد خسارے کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ووکس ویگن نے ایک کروڑ دس لاکھ متاثرہ گاڑیوں میں نصب سافٹ ویئر کی مرمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے

جرمنی کے کار ساز ادارے ووکس ویگن کی گاڑیوں میں مضمر صحت گیسوں کے اخراج کے سکینڈل کے بعد بڑھتی ہوئی لاگت نے کمپنی کو خسارے کی جانب دھکیل دیا ہے۔

ووکس ویگن کے مطابق سال کی تیسری سہ ماہی میں سکینڈل میں آنے والی گاڑیوں کی مرمت کے لیے 6.7 ارب یورو مختص کرنے کے بعد خسارہ 3.48 ارب یورو تھا اور قبل از ٹیکس خسارہ 2.5 ارب ڈالر تھا۔

’ووکس ویگن سکینڈل سے جرمنی کی ساکھ متاثر نہیں ہوگی‘

ووکس ویگن کے سابق سربراہ کے خلاف تحقیقات شروع

ستمبر میں ووکس ویگن اعتراف کر چکی ہے کہ اس نے دنیا بھر میں ڈیزل سے چلنے والی ایک کروڑ دس لاکھ گاڑیوں میں ایسا آلہ نصب کیا تھا جو گاڑی کے اخراج میں گھپلا کر کے اسے کم دکھائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کمپنی کے بورڈ آف منیجمنٹ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو میتھیس مِلر کے مطابق ’یہ اعداد و شمار ایک طرف کمپنی کی مرکزی طاقت کا اظہار ہیں جبکہ دوسری طرف موجودہ صورتحال کے ابتدائی اثرات واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے کھوئے ہوئے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے اپنی استعداد کے مطابق سب کچھ کریں گے۔‘

ووکس ویگن کا کہنا ہے کہ سکینڈل کے نتیجے میں اُن کو پورے سال کے منافع ’نمایاں کمی‘ کی توقع ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اب بھی فروخت سے ہونی والی آمدنی میں چار فیصد اضافے کا امکان ہے۔

دوسری جانب کمپنی نے عملے کی تعداد میں کٹوتی شروع کر دی ہے اور اسی ماہ کے اوئل میں کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تحقیقی اور ترقیاتی بجٹ میں بھی کمی کی جائے گی۔ گذشتہ تین ماہ کے دوران کمپنی کی جانب سے تحقیقاتی اور ترقیاتی بجٹ میں ایک ارب یورو سے زیادہ کی کمی کی گئی ہے۔

ووکس ویگن کے حصص 3.2 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے اور کمپنی کی جرمن بازارِ حصص میں تجارت کے پہلے گھنٹے میں یہ بہترین کاکردگی تھی۔

اسی بارے میں