بی بی سی کے صحافی کے لیپ ٹاپ کی ضبطی پر ’تشویش‘

Image caption این کاٹز بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کے ایڈیٹر ہیں

بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کے ایڈیٹر این کاٹز نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت پولیس کی جانب سے بی بی سی کے صحافی کے لیپ ٹاپ کو اپنی تحویل میں لینے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ سکندر کرمانی نے پولیس حکام کی جانب سے جج کے حکم کے بعد اپنا کمپیوٹر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

یہ کارروائی کرمانی اور شام میں خود کو کھلے عام تنظیم دولت اسلامیہ کا شدت پسند کہنے والے ایک شخص کے درمیان روابط کے بعد عمل میں آئی ہے۔

بی بی سی کے ترجمان کے مطابق وہ شخص خفیہ مخبر نہیں تھا۔

این کاٹز کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے صحافیوں اور ذرائع کے درمیان معلومات حاصل کرنے کے قانون کا استعمال دولت اسلامیہ کے بارے میں رپورٹنگ میں مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

بی بی سی کے ایک ترجمان نے کہا: ’پولیس نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت یہ حکم حاصل کیا جس کے مطابق بی بی سی کو نیوز نائٹ کے صحافی اور شام میں خود کو کھلے عام دولت اسلامیہ کا رکن کہنے والے شخص کے درمیان ہونے والی بات چیت ان کے سپرد کرنے کا کہا گیا ہے۔‘

’یہ شخص نیوزنائٹ کی رپورٹوں میں بھی پیش کیا جا چکا ہے اور کوئی خفیہ مخبر نہیں تھا۔‘

خیال رہے کہ پولیس کے پاس سنہ 2000 میں متعارف کروائے گئے دہشت گردی ایکٹ کے مطابق یہ قانونی اختیارات ہیں کہ وہ ’دہشت گردی کی سرگرمیوں کے ارتکاب، تیاری یا اکسانے‘ سے متعلق چھان بین کے لیے معلومات تحویل میں لے سکتی ہے۔

سکندر کرمانی بی بی سی لندن، چینل فور نیوز اور اسلام چینل کے لیے کام کر چکے ہیں اور وہ گذشتہ برس نیوز نائٹ سے وابستہ ہوئے تھے۔

حالات حاضرہ سے متعلق پروگرام کے لیے کام کرتے ہوئے انھوں نے دولت اسلامیہ سے منسلک ہونے کا دعویٰ کرنے والے متعدد افراد کے انٹرویوز کیے جن میں 18 سالہ آسٹریلین شہری جیک بلرڈی بھی شامل ہیں جن کی تصاویر دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ گذشتہ دسمبر بھی سوشل میڈیا پر دیکھی گئی تھیں۔

اسی بارے میں