شام کے جہنم سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا آسان نہیں: جان کیری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اپنے خطاب میں جان کیری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اور روس ’مشترکہ مقاصد‘ رکھتے ہیں

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکہ نے شام میں جاری خانہ جنگی کے ’جہنم‘ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں حالاں کہ واشنگٹن نے اعتدال پسند باغیوں کی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔

جان کیری اس ساڑھے چار سال پرانے تنازعے کے خاتمے کے لیے وزرائے خارجہ سے مذاکرات کے لیے ویانا جا رہے ہیں۔

ایران شامی بحران پر عالمی مذاکرات میں شرکت کرے گا

ایران پہلی مرتبہ اس قسم کے مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے، جن میں روس، سعودی عرب اور ترکی بھی شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ روس اور ایران دونوں شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

امریکہ، ترکی، سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ملک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بشارالاسد ملک کے مستقبل کے لیے کسی بھی قسم کا طویل المدت کردار ادا نہیں کر سکتے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی، مصر، لبنان اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اس ملاقات میں شرکت کی تصدیق کی ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی دیگر طاقتوں کی جانب سے بھی شرکت متوقع ہے۔

شام میں جاری لڑائی میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب بےگھر ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

واشنگٹن میں بین الاقوامی امن کے ماہرین پر مبنی ادارے کارنیگی اینڈاؤمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ ’شام میں ہمیں جس طرح کی مشکلات درپیش ہیں وہ جہنم سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنے سے کسی طور کم نہیں ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’شام میں آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔ یہ ہمیں سیاسی پیش رفت کے لیے بہترین موقع نظر آتا ہے۔‘

جان کیری کا کہنا تھا کہ ’سیاسی تبدیلی سے بڑھ کر کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑائی میں اعانت کر سکے اور جو بشارالاسد کو دیوار سے لگا سکے اسی لیے زیادہ سے زیادہ ممالک کو انتہا پسندی کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔‘

اپنے خطاب میں جان کیری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اور روس ’مشترکہ مقاصد‘ رکھتے ہیں اور دونوں ’متحد اور سیکیولر شام چاہتے ہیں۔‘

الزام عائد کیا جاتا ہے گذشتہ چار سالوں سے صدر بشارالاسد کی حکومت کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ایران کی جانب سے اربوں ڈالر کی رقم خرچ کی گئی ہے جبکہ فوجی مشیر اور معاون ہتھیار بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

تاہم شام کی سیاسی حزبِ اختلاف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی شمولیت سے ویانا کا اجلاس پیچیدہ شکل اختیار کر جائےگا۔

روس اور ایران دونوں نے شام کے تنازعے میں اپنے فوجی کردار میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

اسی بارے میں