’ہم فلسطین میں اتر رہے ہیں‘ کے اعلان کی تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مسافروں کا کہنا ہے کہ بے خیالی میں نہیں پائلٹ نے ارداتاً ایسا کہا

ہسپانوی ایئرلائن آئبیریا اس شکایت کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل میں اترتے وقت جہاز کے کپتان نے اعلان کیا کہ وہ ’فلسطین میں اتر رہے ہیں۔‘

برطانوی ماہرین کا اسرائیلیوں کا بائیکاٹ

فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کا سانجھا خوف

مسافروں کا کہنا ہے کہ پائلٹ نے ہسپانوی زبان میں اعلان کیا اور پھر انگریزی زبان میں اعلان کرتے ہوئے فلسطین اور اسرائیل کا نام لیے بغیر کہا کہ جہاز اترنے والا ہے۔

ایئرلائن کی ترجمان نے کہا ہے کہ عملے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی لیکن انھوں نے ’کسی بھی قسم کی غلط فہمی‘ پر معافی مانگ لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت جاننے کے لیے ہم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔‘

ترجمان نے کہا کہ ہمارا کام یہ ہے کہ مسافروں کو ان کی منزل تک محفوظ طریقے سے پہنچائیں، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ان کی کیا شہریت ہے، وہ کس ذات سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کا مذہب کیا ہے۔‘

بی بی سی سے گفتگو میںایئرلائن کی ترجمان نے کہا کہ ’جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں افسوس ہے۔‘

اسرائیلی میڈیا کے مطابق آئبیریا ایئر لائن کی فلائٹ نمبر 3316 بدھ کو تل ابیب کے بن گوریان ایئرپورٹ پر پہنچی۔ ایک اسرائیلی مسافر نے کے مطابق: ’ہم حیرت زدہ تھے، سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے ایسا کیوں کہا۔ ہم اسرائیل میں رہتے ہیں اور انھیں اسرائیل ہی کہنا چاہیے تھا۔ انھوں نے بے خیالی میں نہیں ارداتاً ایسا کہا۔‘

ایک اور مسافر نے ایئر لائن کو خط لکھا: ’میں اور میرا خاندان شدید غصے میں ہیں، یہ بالکل قابلِ قبول نہیں ہے اور یہ آپ کی کمپنی کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا۔‘

اسرائیل دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایک آزاد ریاست کے طور پر سامنے آیا تاہم اب بھی یہودی ریاست سے نظریاتی اختلافات رکھنے والے اس علاقے کو فلسطین کے نام سے پکارتے ہیں۔

اسی بارے میں