’بدعنوانی کا احساس اور انتہا پسندانہ تشدد‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی عرب اپنے اتحاد کو مستحکم بنانے کے لیے ہتھیاروں کی خریداری کرتا ہے

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ روز بروز بڑھتے خفیہ دفاعی بجٹ اور مشرقِ وسطیٰ میں فوج کی غیر تسلی بخش نگرانی نے اس خطے کو بدعنوانی کا حساس اور انتہا پسندانہ تشدد کا آسان ہدف بنا دیا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں بدعنوانی کی سطح جانچنے والے بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی یہ رپورٹ جمعرات کو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ خطہ ایک سے زائد مسلح تنازعات کی زد میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام اور عراق کے کئی علاقوں پر دولتِ اسلامیہ قابض ہے

اس میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف عراق اور شام میں جاری لڑائی، شام کی خانہ جنگی، لیبیا میں مسلح ملیشیا گروہوں کی بدنظمی اور یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں جاری باہمی فضائی مہم شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان تمام تنازعات میں فوجی بجٹ ایندھن کی طرح پُھونکا جاتا ہے۔گذشتہ برس مراکش سے ایران تک پھیلے 17 ممالک نے 135 ارب ڈالر اپنی افواج پر خرچ کیے۔ رپورٹ میں اسرائیل یا فلسطین کو شامل نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ برس مراکش سے ایران تک پھیلے 17 ممالک نے اپنی افواج پر 135 ارب ڈالر خرچ کیے

رپورٹ کے مطابق اردن اور تیونس کے سوا خطے کا کوئی بھی ملک فوجی اخراجات کے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا۔

مثال کے طور پر مصر میں عسکری بجٹ کا تخمینہ چار ارب 40 کروڑ ڈالر ہے۔ یہ ریاستی راز ہے اور فوج کے ذاتی بینک اکاؤنٹ ہمیشہ نگرانی سے بالاتر رہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اخراجات پر اکثر کوئی روک ٹوک نہیں کی جاتی۔ سعودی عرب اپنے اتحاد کو مستحکم بنانے کے لیے ہتھیاروں کی خریداری کرتا ہے۔ اسی لیے وہ مختلف ممالک سے ایک جیسے ہتھیاروں کے نظام خریدتا ہے۔

اس کے علاوہ شاہی خاندان کا کوئی فردِ واحد بھی ہتھیاروں کی خریداری کر سکتا ہے، جس کے باعث انتشار میں اضافہ ہو رہا ہے اور بدعنوانی کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن میں سعودی عرب کی کمان میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے دفاع اور سلامتی کی ڈائریکٹر کیتھرین ڈکسن کا کہنا ہے کہ ’عسکری بدعنوانی نے حقیقی معنوں میں دفاعی اداروں کی قانونی حیثیت کو بہت کمزور کر دیا ہے۔‘

دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند تنظیمیں بدعنوانی کے حوالے سے عوامی عدم اطمینان کو اپنے پروپیگنڈے کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

کیتھرین ڈسکن کے مطابق ’عوام کو اپنے اداروں پر اعتماد نہیں ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ عدم استحکام کا خطرہ بڑھانے کی وجہ بن سکتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بدعنوانی دہشت گردی کی فضا کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔‘

اسی بارے میں