امریکہ کا شام میں کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن شام میں سپیشل فورسز بھیج رہے ہیں جو حکومت مخالف گروہوں کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مدد کریں گے۔

امریکی حکام کے مطابق سپیشل فورسز میں ’50 سے کم‘ نفری شامل ہو گی۔ اور یہ پہلا موقع ہو گا کہ امریکی فورسز شام میں کھلے عام کارروائی میں حصہ لیں گے۔

دوسری جانب شام کے تنازعے کے حل کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات کرنے والے عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے معمولی پیش رفت ہوئی ہے لیکن صدر اسد کے مستقبل کے بارے میں ابھی بھی شدید اختلافات برقرار ہیں۔

شام کے مسئلے پر ویانا میں اہم عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرت

’ایران کو بشار الاسد کی علیحدگی کو تسلیم کرنا ہو گا‘

جو امریکہ نہ کرسکا روس کر سکے گا؟

یاد رہے کہ ماضی میں امریکی فورسز نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کی ہوئی ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سپیشل فورسز بھیجنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شام کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا مرکز شمالی شام ہو گا۔

ماضی میں امریکی سپیشل فورسز نے شام میں دو کارروائیاں کی ہیں۔ مئی میں مشرقی شام میں ایک کارروائی میں دولت اسلامیہ کے سینیئر رکن ابو سیاف کو ہلاک کیا گیا اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا گیا۔

اس سے قبل پچھلے سال امریکی صحافی جیمز فولی سمیت امریکی مغویوں کو بازیاب کرانے کے لیے آپریشن کیا گیا جو ناکام رہا اور بعد میں دولت اسلامیہ نے جیمز فولی کا سر قلم کردیا۔

امریکہ نے یہ اعلان ایسے وقت کیا ہے جب شام کے تنازعے کے حل کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں عالمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان اہم بات چیت ہونے والی ہے جس میں ایران پہلی بار شرکت کر رہا ہے۔

اس بات چیت سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شام کی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے قومی مفاد سے بالاتر ہوکر متحد ہوجائیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے پر متعلقہ ممالک کو اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنی چاہیے تاکہ اس تنازع کو حل کیا جا سکے۔

اسی بارے میں