ایمیزون کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس علاقے میں گواجاجارا نسل کے 12000 قبائلی آباد ہیں

برازیل میں حکام کے مطابق ایمیزون کی جنگلات میں مختلف مقامات میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

اس آگ سے ایمیزون کے خطے میں مقامی قبائل کے نصف سے زائد وسائل متاثر ہوئے تھے۔

ایمیزون کی کٹائی: فائدے اور نقصانات

برازیل: ایمیزون میں درختوں کی گنتی

خیال رہے کہ برازیل کی ریاست مارنہاؤ میں ارایبوئیا کے محفوظ شدہ علاقے میں 12000 مقامی قبائلی رہتے ہیں۔

ان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ آگ ایک ماہ سے زائد عرصہ قبل باغی کسانوں اور درختوں کی کٹائی کرنے والوں کی جانب سے لگائی گئی تھی جو علاقے کے قدرتی وسائل ہتھیانا چاہتے تھے۔

سینکڑوں کی تعداد میں فائرفائٹرز اور فوجیوں نے آگ بچھانے کی کوششیں کرتے رہے تھے۔

ایک مقامی اہلکار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کا کام حالیہ بارشوں نے آسان کر دیا، جس نےریاست میں تقریباً 90 فیصد آگ کو بجھا دیا۔

برازیل کے انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمنٹ اینڈ رینیوایبل نیچرل ریسورسز کے ریجینل ڈائریکٹر لیسیانو ایوریسٹو نے بتایا کہ بقیہ دس فیصد آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رواں سال برازیل میں ایمیزون کے جنگلات میں آگ لگنے کے 13000 سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں

ماحولیات سے وابستہ غیرسرکاری تنظیم گرین پیس کا کہنا ہے کہ درختوں کی کٹائی کرنے والوں نے قبائلیوں کو خوفزدہ کرنے اور ارایبوئیا میں ان کے نگرانی کے پروگرام کو روکنے کے لیے آگ لگائی تھی۔

اس علاقے میں گواجاجارا نسل کے 12000 قبائلی آباد ہیں۔

انہی میں اوا گواجا نامی ایک قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد محض 80 ہے، جو جنگل کے اندرونی علاقوں میں رہتے ہیں۔

رواں سال برازیل میں ایمیزون کے جنگل میں آگ لگنے کے 13000 سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں۔

اسی بارے میں