تاجکستان میں خطرے کی گھنٹیاں بجنےلگیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تاجکستان اور افغانستان کے درمیان 1400 کلو میٹر طویل سرحد ہے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری ان خدشات کے درمیان ازبکستان میں ایک علاقائی اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں کہ کہیں افغانستان میں جاری لڑائی پھیل کر ہمسایہ مرکزی ایشیائی ممالک تک نہ جا پہنچے۔

تاجکستان سے بی بی سی کے نامہ نگار خیروالفیض کے مطابق افغانستان تاجکستان سرحد پر واقع پیانجی پویون کراسنگ پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

سبز وردیوں میں دو جوان سرحدی گارڈ گرد آلود سڑک کے دونوں جانب ایک سرخ اور سفید رنگ کے ایک رکاوٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دریائے امو جو افغانستان اور تاجکستان کو الگ کرتا ہے کے کناروں پر خاردار تار کی باڑ لگی ہوئی ہے۔

افغانستان کی جانب چند گودام صاف دکھائی دے رہے ہیں اور کچھ فاصلے پر ایک مسجد کا نیلا گنبد دھوپ میں چمک رہا ہے۔

ایک برس قبل اس مقام پر سرحد پار کرنے کے لیے ٹرکوں کی قطاریں ہوا کرتی تھیں۔ لیکن اب یہ جگہ تقریباّ ویران پڑی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption افغانستان تاجکستان سرحد پر واقع پیانجی پویون کراسنگ پر موجود تاجک گارڈز

افغانستان کی جانب تقریباّ 70 کلومیٹر اندر اکتوبر کے اوائل سے گھمسان کی جنگ جاری ہے جب طالبان نے کچھ عرصے کے لیے قندوز شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

ایک تاجک سرحدی گارڈ نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’رات کے وقت آپ دوسری جانب سے فائرنگ کی آواز سن سکتے ہیں۔ ہم ہر وقت ہائی الرٹ کی حالت میں رہتے ہیں۔

سرحد پار افغانستان میں جنگ کوئی نئی بات نہیں لیکن حالیہ لڑائی میں ایک ایسا نیا عنصر ہے جس نے مرکزی ایشیا اور روس میں خطے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ مرکزی ایشیائی عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد قندوز میں طالبان کے ہمراہ لڑائی میں شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شمالی افغانستان میں جنگ کے باعث افغانستان اور مرکزی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت کو نقصان پہنچا ہے

تاجک تجزیہ نگار قاسمشو اسکندروو کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں سینکڑوں ازبک، اویغر اور چیچن جنگجو موجود ہیں جو صرف افغانستان حکومت کے خلاف جنگ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ مرکزی ایشیا اور شاید روس میں بھی لڑائی کرنا چاہتے ہیں۔‘

تاجک حکومت نے کسی بھی ممکنہ حملے سے نمٹنے کےلیے 1400 کلو میٹر لمبی سرحد پر موجود سات راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

تاجک وزارت دفاع سے منسلک آمرشو حکیموو کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے افغان ساتھیوں کےساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہمیں جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو ہم ان سے رابطہ کر کے اسے مل کر حل کرتے ہیں۔‘

ماسکو نے بھی ردِ عمل میں دیر نہیں کی اور تاجکستان میں موجود اپنے 7000 فوجیوں کی کمک کے لیے اپنے تین فوجی اڈوں میں سے ایک پر جنگی ہیلی کاپٹر بھجوا دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تاجک وزارت دفاع سے منسلک آمرشو حکیموو کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف تاجکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں

سرحد سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹے سے شہر کمسنگیر کے رہائیشی بھی پریشان ہیں۔

بازار میں ایک بوڑھے آدمی کا کہنا تھا کہ ’ایک تاجک کہاوت ہے کہ اگر تمہارے ہمسائے کا گھر پرسکون ہے تو تمہارا گھر بھی پرسکون رہے گا۔‘

مسلح بغاوت

بنیاد پرستی کا پھیلاؤ بڑی پریشانی کا سبب ہے۔

مئی کے مہینے میں تاجک سپیشل فورسز کے ایک اعلیٰ افسر کی دولت اسلامیہ میں شمولیت نے حکومت کو جنجھوڑ ڈالا تھا۔

یہ افسر شام میں موجوں سینکڑوں تاجک نوجوان جنگجوؤں سے جا ملا جن میں سے بیشتر سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر اپنی وڈیوز نشر کرتے ہیں اور اپنی نئی زندگی اور فراخدلانہ تنخواہوں پر اتراتے ہیں۔

ستمبر کے مہینے میں ایک نائب وزیر دفاع نے حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی سرکردگی کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام نے اس بغاوت کے ماسٹر مائنڈ ہونے اور حملہ کرنے کا الزام اب تک سنٹرل ایشیا میں سرکاری طور پر منظور شدہ واحد اسلامی پارٹی ’اسلامک ریوائیول پارٹی (آئی آر پی) پر عائد کیا تھا۔

تاجکستان میں حکام کے اس دعوے کو بیشتر نے شک کی نگاہ سے دیکھا لیکن آئی آر پی کو کچھ ہی عرصے بعد کلعدم قرار دے دیا گیا اور اس کے جوراہنما ملک سے بر وقت فرار نہ ہو سکے اب جیل میں ہیں۔

کریک ڈاؤن

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ہر جگہ سوٹ میں ملبوس آئی آر پی کے اعتدال پسند رہنما موہدین کبیری کی تصاویر اخبارات کے پہلے صفحات پر چھپی ہوئی ہیں۔

اکثر انہیں ’دہشت گرد‘ لکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تاجک اخبارات جن میں آئی آر پی کے راہ نما موہدین کبیری کو ’دہشت گرد‘ لکھا گیا ہے

ٹیکسی ڈرائیور ابرور جو پارٹی کے ممبر ہیں اور چار بچوں کے والد بھی خوفزدہ ہیں کہ ان کا بھی یہی حال ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر مجھے پولیس روکے تو میں خوف زدہ ہو جاتا ہوں کہ وہ مجھے دہشت گرد سمجھیں گے۔‘

آئی آر پی کی پارلیمان میں کوئی نشت تو نہیں تاہم یہ کرپشن کے خلاف اور دوسرے ممالک سے کام کی غرض سے آنے والوں کے حقوق پر آواز بلند کرنے کی وجہ سے مقبول تھی۔

کچھ تجزیہ نگاروں کو خدشہ ہے کہ اس پارٹی کو خاموش کر دیے جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو آئی آر پی سے زیادہ بنیاد پرست گروہ بھر دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption روس کے معاشی بحران کے باعث روس میں کام کرنے والے کئی تاجک مجبوراّ واپس تاجکستان لوٹ آئے ہیں

روس کے معاشی بحران کے باعث لاکھوں تاجک جو روس میں کام کرتے اورتاجکستان رقم بھیجتے ہیں متاثر ہوئے ہیں اور یہ بات بھی پریشانی کا سبب ہے۔

ایک صحافی نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’کسی بھی انتہا پسند گروہ کے خیالات پھیلنے کی بڑی وجہ غربت، پولیس مظالم اور کرپشن ہے۔ جب نئی نسل کو آن لائن بنیاد پرست رجحانات کا سامنا ہوتا ہے تو کون ہے جو انھیں اس سے محفوظ رکھے یا کوئی متبادل راستہ دکھائے؟‘

اسی بارے میں