’تیسری دنیا کا شکی بچہ‘

میڈیا پر ایک افریقی بچے کی ان گنت بار نقل کی جانے والی تصویر جسے انٹرنیٹ پر ’تیسری دنیا کا شکی بچہ‘ کا نام دیا گیا ہے، دنیا بھر میں شہرت حاصل کر چکی ہے۔

لیکن اس تصویر کے مزاحیہ عنوانات اور عبارتوں کے ساتھ ایک سنجیدہ بحث یہ بھی سامنے آئی ہے کہ افریقہ کی غربت اور وہاں کے بچوں کے بارے میں مغرب کے کیا نظریات ہیں اور انھیں میڈیا میں کس طرح رپورٹ کیا جاتا ہے؟

اس بچے کا لباس میلا ہے اور چہرے پر طنزیہ تاثرات ہیں، جو اپنے قریب گندگی میں بیٹھی ہوئی ایک مغربی خاتون کو انتہائی معنی خیز انداز میں کن انکھیوں سے دیکھ رہا ہے۔

یہ تصویر تین سال قبل امریکی ریاست ٹیکسس کے ایک شخص نے اپنی دوست کے فیس بک پیج سے اٹھا کر ریڈ اِٹ نامی ویب سائٹ پر پوسٹ کر دی تھی۔

اس کے بعد سے اس تصویر کو میڈیا میں متعدد بار مختلف عنوانات کے ساتھ نقل کیا جاتا رہا ہے۔ ان میں سے بہت سی عبارتیں اور عنوانات جنگ زدہ، غریب اور غذائی قلت کا شکار افریقہ کا مبہم سا خاکہ پیش کرتی ہیں۔

اس تصویر کے انٹرنیٹ پر اتنا پھیل جانے کے بعد بی بی سی ٹرینڈنگ کو یہ جاننے کی خواہش ہوئی کی یہ بچہ کون ہے، اور اس تصویر کا اس طرح پھیلنا ہمیں انٹرنیٹ کی روایات اور تعصبات کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔

تصویر کی اس طرح مشہوری سے پہلا مسئلہ پرائیوسی کا پیدا ہوتا ہے۔ ابھی تک ہمارا اس بچے اور اس کے والدین سے رابطہ نہیں ہوا اور ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کو اس تصویر کے وائرل ہونے کا علم ہے بھی کہ نہیں۔

بی بی سی نے اس تصویر کو اس لیے چھاپ دیا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی کئی بار شیئر کی جا چکی ہے۔ اسے چھاپنے کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ اس سے پیدا ہونے والی بحث کو بھی سامے لایا جا سکے۔

لیکن بی بی سی نے تصویر میں موجود ان خاتون کو تلاش کر لیا۔ یہ 28 سالہ ہینا پراناو ہیں جو شکاگو میں ڈاکٹر ہیں۔

وہ سنہ 2012 میں میڈیکل کی طالبہ تھیں اور خانہ جنگی سے متاثرہ خواتین کے لیے ایک فلاحی پروجیکٹ کے سلسلے میں شمالی یوگنڈا کے شہر گولو پہنچی تھیں۔ ’پروز فار افریقہ‘ نامی اس فلاحی منصوبے کی سربراہی ایک کیتھولک راہبہ سسٹر روزمیری نیرومبے کر رہی تھیں۔

پراناو کہتی ہیں کہ اس بچے کا تعلق اس فلاحی پروجیکٹ سے نہیں تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ اس بچے سے ایک مقامی بازار میں ملی تھیں اور ان کا خیال ہے کہ اس وقت اس بچے کی عمر دو یا تین سال ہو گی۔

پراناو نے بی بی سی کو بتایا: ’میں دیگر طالب علموں کے گروپ کے ساتھ تھی۔ ہم لوگ بازار میں گھوم رہے تھے اور میری نظر اس بچے پر پڑی۔ وہ واقعی بہت پیارا بچہ تھا۔‘

’بچے کی والدہ قریبی بازار میں کام کر رہی تھیں۔ میں بچے کے نزدیک گئی اور اسے ہائے کہا۔ میں نے اب تک اتنے زندہ دل بچے سے نہیں ملی تھی۔‘

وہ بچہ انگریزی نہیں سمجھ سکتا تھا اور پرناو مقامی زبان نہیں بول سکتی تھیں۔ لیکن ان کی اس چھوٹی سی ملاقات کو گروپ میں شامل ایک رکن نے اپنے کیمرے میں محفوط کر لیا۔ پرناو کہتی ہیں کہ ان کے دوست کے تصویر پوسٹ کرنے سے پہلے انھوں نے کبھی ریڈ اِٹ کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

انھوں نے بتایا ’میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہو گا۔ میری خواہش ہے کہ کاش اس بچے اور اس کی والدہ کو بھی اس تصویر کے بارے میں پتہ ہوتا اور وہ اس سے کچھ فائدہ اٹھا سکتے، کیونکہ میرا خیال ہے اس تمام عمل میں اس بچے کا استحصال کیا گیا ہے۔‘

پراناو کے اس خیال کی فلاحی کام کرنے والے دیگر افراد اور اداروں نے بھی تائید کی ہے۔

مارٹن جاہرے ناروے میں طالب علموں کے لیے امداد اکٹھی کرنے والی ایک این جی او کی نائب صدر ہیں۔

ان کی این جی او فلاحی اداروں کی جانب سے افریقہ میں مدد کے طریقوں پر طنزیہ ویڈیوز بنانے اور انھیں انٹرنیٹ پر پھیلانے کے لیے مشہور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فلاحی ادارے اپنی تشہیری مہم میں افریقہ کے غریب بچوں کو استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’ہمارے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ لوگوں کی اخلاقیات سنوارنے کے لیے ڈندا لے کر کھڑے ہو جائیں اور انھیں سمجھائیں کہ یہ مذاق نہیں ہے۔ لیکن میرے خیال میں لوگوں کو محتاط ہونا چاہیے کہ وہ جو انٹرنیٹ پر شیئر کر رہے ہیں اس سے کیا پیغام جا رہا ہے۔

’یہ آپ کو بھی اچھا محسوس نہیں ہو گا کہ آپ کے اپنے بچے کی تصویر دنیا بھر میں لوگ مذاق کے لیے استعمال کریں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ ہمارے اپنے بارے میں اور ان کے بارے میں خیالات میں کتنا تضاد ہے۔‘

لیکن اس تصویر کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے اور کچھ افریقی خود بھی اس تصویر کو ان کے براعظم کے بارے میں مغرب کے خیالات پر اعتراض کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس تصویر کے ذریعے میڈیا میں غریب ممالک کی تشہیر کے طریقہ کار کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

اس تصویر کے ذریعے عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حال ہی میں اس تصویر کو جنوبی افریقہ میں یونیورسٹیوں کی فیس میں اضافے کے خلاف مظاہروں کے دوران بھی استعمال کیا گیا۔

جاہرے کا کہنا ہے: ’یہ خطرناک ہے کہ ہم افریقہ کی تصویر کا صرف ایک ہی رخ پیش کریں۔ ہمیں اس براعظم کی ترقی کے بارے میں بھی کچھ بتانا چاہیے۔‘

’ہمارا میڈیا روزانہ کی بنیادوں پر دنیا کے بارے میں ہمارے تاثرات وضع کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن وقت کےساتھ کچھ مثبت تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں جن کے بارے میں لکھنا شاید جنگ کی تباہ کاریوں کے بارے میں لکھنے کی طرح پرکشش نہ ہو، لیکن جب آپ افریقہ کو صرف بھوک، بیماری، ایچ آئی وی اور ایڈز کے حوالے سے جانتے ہوں تو آپ واقعی بے حس ہو جاتے ہیں۔‘