روسی جہاز گرانے کا دعویٰ محض پروپیگنڈا ہے: مصری صدر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

روس کی فضائی کمپنی کوگالی ماویا نے الزام عائد کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے صحرائے سینا میں تباہ ہونے والا مسافر بردار طیارہ بیرونی عوامل کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا تھا۔ تاہم روس کی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ جہاز کی تباہی پر کسی قسم کی قیاس آرائی کرنا قبل ازوقت ہے۔

روسی ٹی وی سے گفتگو میں فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کے سربراہ الکساندر نیرادکو نے کہا کہ اس قسم کی بات چیت حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

ادھر مصر کے صدر السیسی نے بی بی سی کودیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جہاز کی تباہی کی وجہ کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم انھوں نے جہادیوں کی جانب سے اس دعوے کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے کہ یہ جہاز انھوں نے مار گرایا ہے۔

صدر کا کہنا تھا کہ یہ مصر کی سکیورٹی، استحکام اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کا طریقہ ہے۔

’سینا میں طیارہ دولتِ اسلامیہ نے نہیں گرایا‘

روسی طیارہ مصر میں گر کر تباہ، 224 افراد ہلاک

خیال رہے کہ اس سے قبل فضائی کمپنی کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ یہ حادثہ بیرونی وجوہات کی بنا پر ہوا۔

شہری ہوا بازی کے ماہرین کی طرف سے طیارے کے ’بلیک باکس‘ سے ڈیٹا حاصل کر کے ابھی حادثے کی تحقیقات ہونا باقی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طیارے پر سوار 217 مسافروں میں سے 214 کا تعلق روس سے تھا

کوگالی ماویا نامی کمپنی کا ایئر بس اے 321 طیارہ حسانا نامی صحرائی علاقے میں گذشتہ ہفتے کو گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس پر سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اب اس فضائی کمپنی کا نام تبدیل کر کے میٹرو جیٹ رکھ دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ ایئر بس 321 طیارہ گذشتہ ہفتے کو مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ سے اڑنے کے تھوڑی دیر بعد تباہ ہو گیا۔

روسی ایوان صدر کریملن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حادثے میں تخریب کاری کا عنصر یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ماسکو میں فضائی کمپنی کے ڈپٹی ڈائریکٹر الیگزینڈر سمرنوف نے ایک پریس کانفرنس میں حادثے میں تکنیکی خرابی اور پائلٹ کی غلطی کے امکان کو رد کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس میں طیارے کے حادثے پر اتوار کو سوگ منایا گیا اور ملکی پرچم سرنگوں رہا

الیگزینڈر سمرنوف نے کہا کہ فضا میں جہاز کے پھٹ جانے کی واحد قابلِ فہم وجہ کسی بیرونی چیز سے ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔

فضائی کمپنی کے ایک اور اہلکار نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تباہ ہونے والے جہاز کے ماضی میں بھی نقصان پہنچ چکا ہے اور 2001 میں اڑان بھرتے ہوئے اس کی دم کو نقصان پہنچا تھا۔

لیکن انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس کی مناسب مرمت کر لی گئی تھی اور یہ حادثے کے تباہ ہونے کی وجہ نہیں ہو سکتا۔

یہ ایئر بس 321 طیارہ گذشتہ ہفتے کو مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ سے اڑنے کے تھوڑی دیر بعد تباہ ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں