پیلمائرا میں ’دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں‘ پر روسی بمباری

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO
Image caption دولت اسلامیہ نے مئی میں شام کی حکومت سے یہ شہر چھین لیا تھا

روس نے کہا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں نے شام کے تاریخی شہر پیلمائرا میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ جیٹ طیاروں کے حملے میں زیرِ زمین بنکر، طیارہ شکن گنوں کو تباہ کیا گیا ہے۔

فتح کی محراب مسمار

دو ہزار سال پرانے مقبرے دولت اسلامیہ کے ہاتھوں تباہ

پیلمائرا کے آثار قدیمہ کو بچانے کے لیے کوشاں رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کتنا نقصان ہوا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فضائی حملوں میں رومی دور میں تعمیر کیے گئے پیلمائرا کے مغرب میں 13 صدی کے اس قلعے کو نقصان پہنچا ہے جسے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اس علاقے میں دو ایسے مندروں کو تباہ کیا جو 2000 سال قبل تعمیر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ’آرچ آف ٹریئمف‘ یعنی فتح کے محراب اور مقبروں کو بھی تباہ کیا گیا۔

دولت اسلامیہ نے مئی میں شام کی حکومت سے یہ شہر چھین لیا تھا اور اس کے بعد سے وہاں کے معبدوں اور فنی نمونوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

روسی وزارتِ دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ انھوں نے پیلمائرا میں حملے کب کیے تاہم برطانیہ میں موجود شام سے متعلق انسانی حقوق کا مشاہدہ کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ یہ حملے پیر کو کیے گئے۔

پیلمائرا کا یہ قلعہ جو روسی حملے میں تباہ ہوا قالات شیرخ یا قالات اب مان کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے اقوام متحدہ کے ثقافت کے ادارے یونیسکو نے دنیا کے اہم ثقافتی مقامات میں شامل کر رکھا ہے۔

گذشتہ ماہ شام میں قدیم تعمیرات کے تحفظ کے ادارے نے بھی رپورٹ دی تھی کہ اس قلعے کے کچھ حصے شامی حکومت کی جانب سے بیرل بموں کے حملے میں تباہ ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں