ترکی کے انتخابات پر یورپی مبصرین کی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترک صدر رجب طیب اردگان نے دنیا پر زور ڈالا ہے کہ وہ اتوار کے روز ہونے والی انتخابات کے نتائج کا احترام کرے

یورپی مبصرین کے مطابق ترکی میں پُر تشدد واقعات انتخابات سے قبل ہی ان پر اثر انداز ہوگئے تھے۔

ان انتخابات میں حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) نے ایک بار پھر اکثریت حاصل کرلی ہے۔

حفاظتی امور سے متعلق یورپی ادارے او ایس سی ای کے مطابق پر تشدد کارروائیوں میں اضافے کے باعث، خاص طور پر جنوب مشرقی علاقوں میں ’چند امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم آزادانہ طور پر چلانے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘

ان کی جانب سے میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردگان نے دنیا پر زور ڈالا ہے کہ وہ اتوار کے روز ہونے والی انتخابات کے نتائج کا احترام کرے۔

اسی دوران کونسل آف یورپ کی پارلیمنٹری اسمبلی (پی اے سی ای) کی جانب سے نہ صرف اتخابی عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ انھیں ’غیر شفاف‘ قرار دے دیا گیا ہے۔

او ایس سی ای کے مبصرین پر مشتمل مشن کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’جماعت کے اراکین پر حملے، اور اس کے ساتھ اہم سکیورٹی خدشات، خاص طور پر شمال مشرقی علاقوں میں‘ انتخابی مہم پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے استنبول میں کوزا ایپک میڈیا گروپ پر پولیس کے چھاپے سمیت صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے واقعات خاصی تشویش کا باعث ہیں۔

پی ای سی ای وفد کے سربراہ آندریاس گروس کا کہنا تھا کہ ’بد قسمتی سے ان انتخابات کے لیے چلائی جانے والی انتخابی مہم کو غیر شفاف، بلکہ اس سے بھی زیادہ، پُرخوف کہیں گے۔‘

صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے واقعات پر وہائٹ ہاؤس کے ترجمان جان ارنسٹ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ترکی پر زور ڈالا ہے کہ وہ ’عالمی جمہوری اقدار کا خیال رکھے۔‘

اسی بارے میں