’تارکین وطن کی واپسی کے لیے پاکستان جاؤں گا‘

یورپی یونین کے کمشنر برائے مہاجرین دمیترس اوراموپالوس کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں وہ یورپ آنے والے پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کے بارے میں بات کریں گے۔

انھوں نے یہ بات یونان سے لکسمبرگ جانے والے مہاجرین کو روانہ کرتے ہوئے کہی۔

بہتر مستقبل کی متلاشیوں کی تابوت میں واپسی

’کوڑے سے اٹھا کر کھا لیں لیکن اس راستے پر نہ آئیں‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انھوں نے کہا کہ مسلح تصادم سے بھاگ کر آنے والے تارکین وطن کو یورپ میں طے شدہ کوٹے کے حساب سے رکھا جائے گا۔ تاہم انھوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ معاشی تارکین وطن کے خلاف یورپ سختی سے قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی حالات کے باعث یورپ آنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں عنقریب پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں وہ حکام سے یورپ آنے والے پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ پاکستان سے یورپ جانے والے تارکین وطن کی تعداد کتنی ہے۔

یونان سے لکسمبرگ جانے والے مہاجرین میں 30 شامی اور عراقی افراد ہیں جو لکسمبرگ میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق یوروپول نے سپین اور پولینڈ میں کارروائی کے دوران پاکستانی انسانی سمگلروں کے ایک گروہ کو گرفتار کیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ گروہ پاکستانیوں کو غیر قانونی طور پر یورپ لاتا تھا جہاں انھیں غلامانہ حالاتِ کار میں کباب ریسٹورنٹس میں کام کروایا کرتا تھا۔

حکام کے مطابق سپین اور پولینڈ کے 365 پولیس اہلکاروں نے درجنوں ریسٹورنٹس اور مکانوں پر چھاپے مارے اور اس گروہ کے کئی کارکنوں کو گرفتار کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ تارکین وطن سے 14 ہزار یوروز لے کر انھیں ترکی سے یونان یا لیبیا سے اٹلی لایا کرتا تھا۔

اسی بارے میں