شامی فضائی حدود میں امریکی اور روسی طیاروں میں رابطے کی مشق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں ممالک کے طیارے ایک ہی ’جنگی فضائی حدود‘ میں داخل ہوکر ایک دوسرے سے محض چند میل کے فاصلے پر آگئے تھے

امریکی حکام کے مطابق شام کی فضائی حدود میں ایک امریکی اور ایک روسی طیارے کے درمیان ’طے شدہ منصوبے کے تحت مواصلاتی رابطے کی مشق‘ کی گئی ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ مشق تین منٹ تک جاری رہی تھی اور اس کا مقصد گذشتہ ماہ طے کیے جانے والے متفقہ ’حفاظتی پروٹوکول کی توثیق کرنا تھا۔‘

گذشتہ ماہ دونوں ممالک کے طیارے ایک ہی ’جنگی فضائی حدود‘ میں داخل ہوکر ایک دوسرے سے محض چند میل کے فاصلے پر آگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد آپس میں آئندہ کسی بھی قسم کی جھڑپ سے بچنے کے لیے دونوں مملک کی فضائیہ کے مابین ایک سمجھوتے پر دستخط کیے گئے تھے۔

پینٹاگون سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشق ’جنوبی مرکزی شام‘ میں کی گئی تھی اور اس بات کو ’یقینی بنایا گیا ہے کہ جب اس طرح کا مواصلاتی رابطہ پہلی بار ہوگا تو وہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے بغیر نہیں ہوگا۔‘

ایک سینیئر روسی فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس مشق کا مقصد ’ہوائی جہاز کے خطرناک حد تک ایک دوسرے کے قریب آنے کے واقعات سے نمٹنے کے لیے طیارے کے عملے اور زمین پر سہولیات مہیا کرنے والے عملے کی تربیت کرنا ہے۔‘

نام نہاد دولت اسلامیہ اور شامی باغیوں کے ہاتھوں دمشق کی پے درپے شکست کے واقعات کے بعد ستمبر میں روس نے شامی باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔

اسی بارے میں