حساس لیپ ٹاپس کی چوری کے بعد سی پی ایس پر جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption چوری کے وقت ستمبر سنہ 2014 میں کمپیوٹروں کو مانچسٹر شہر میں ایک رہائشی فلیٹ میں رکھا گیا تھا

برطانیہ میں معلومات کے نگراں ادارے نے کچھ ایسے لیپ ٹاپس کی چوری کے بعد کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) پر دو لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا ہے جن میں پولیس انٹرویوز کی ویڈیوز شامل تھیں۔

انفارمیشن کمشنر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کمپیوٹروں میں 31 تفتیشی ویڈیوز شامل تھیں۔

بی بی سی کے صحافی کے لیپ ٹاپ کی ضبطی پر ’تشویش‘

سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا ذاتی ای میل ’ہیک‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ لیپ ٹاپس میں موجود تفتیشی مواد میں کئی جنسی اور تشدد آمیز جرائم شامل تھے اور کچھ کیس ایک اعلیٰ عہدے دار پر لگائے گئے الزامات سے منسلک تھے۔

یہ لیپ ٹاپ تب چوری ہوئے جب ان پر مجرمانہ کارروائی میں استعمال کے لیے ایڈٹنگ کی جا رہی تھی۔

انفارمیشن کمشنر کے دفتر کے محکہ نفاذ کے سربراہ سٹیون ایکرسلی نے کہا کہ سی پی او نے ’لاپروائی‘ برتی ہے۔

سٹیون ایکرسلی نے کہا: ’انتہائی حساس ذاتی ڈیٹا والے پولیس انٹرویوز کی ویڈیوز کی حفاظت سی پی ایس کا کام ہے۔ سی پی ایس کو معلوم تھا کہ ان ویڈیوز میں ذاتی اور پریشان کن نوعیت کا ڈیٹا موجود ہے لیکن اس نے ان معلومات کی حفاظت کرنے میں لاپروائی برتی۔‘

سی پی ایس کا کہنا ہے کہ اس نے مستقبل میں اس طرح کے مزید واقعات پیش آنے سے روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر لیے ہیں۔

چوری کے وقت ستمبر سنہ 2014 میں کمپیوٹروں کو مانچسٹر شہر کے ایک رہائشی فلیٹ میں رکھا گیا تھا جسے سٹوڈیو کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

اگرچہ ان لیپ ٹاپس میں پاس ورڈ لگے ہوئے تھے لیکن انفارمیشن کمشنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ ان میں موجود ڈیٹا اینکرپٹ نہیں کیا گیا تھا اور فلیٹ کی سیکورٹی بھی ناکافی تھی۔

اسی بارے میں