اردن میں شامی پناہ گزین بچوں سے’غلامانہ مشقت‘

Image caption ’اردن میں بچوں سے غیر قانونی مشقت لینے کے واقعات میں خاصہ اضافہ ہوا ہے‘

اردن میں زمینداروں اور کاروباری اداروں کی جانب سے کم عمر شامی پناہ گزین بچوں سے غیر قانونی طور پر مشقت لی جا رہی ہے۔ ان میں تین سالہ بچے بھی شامل ہیں۔

یہ معلومات اردن میں قائم فلاحی ادارے تمکین نے بی بی سی کو فراہم کی ہیں۔

تمکین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے تفتیش کاروں کے مطابق بحیرۂ مردار کے نزدیکی علاقوں میں زرعی زمینوں پر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ تین سال کی عمر تک کے بچے بھی کام کر رہے ہیں۔

شامی بچے اعظم کو کیسے ڈھونڈ نکالا؟

ادارے کے مطابق اردن میں بچوں سے غیر قانونی مشقت لینے کے واقعات میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 46 فیصد شامی پناہ گزین بچے اور 14 سال یا اس سے زائد عمر کی 14 فیصد بچیاں ایک ہفتے میں 44 گھنٹوں سے بھی زیادہ کام کر رہی ہیں۔ جبکہ اردن میں کام کرنے کی کم سے کم عمر 16 سال متعین ہے۔

میری بات 14 سالہ یاسین سے ہوئی جو شمالی اردن کے شہر اربد کی ایک معروف کمپنی میں کام کرتے ہیں ۔ یاسین ہفتے کے سات دن اور دن کے 12 گھنٹے صفائی کا کام کرتے ہیں۔

ان کی ایک گھنٹے کی اجرت صرف نصف اردنی دینار ہے جو ایک امریکی ڈالر سے بھی کم ہے اور یہ حکومت کی جانب سے طے شدہ کم سے کم اجرت کی نصف رقم سے بھی کم ہے۔

یاسین کہتے ہیں کہ ’میں ہر روز 12 گھنٹے کام کرتا ہوں، اور یہ مشقت طلب کام ہے۔ ایک بھی چھٹی نہیں ملتی، اور اگر چھٹی مانگ لیں تو وہ اُس دن کی اجرت کاٹ لیتے ہیں۔

’میں صبح ساڑھے سات بجے اٹھتا ہوں اور کام پر آٹھ بجے تک پہنچتا ہوں، لیکن اکثر وہ دیر تک کام کرنے کے لیے کہتے ہیں، اس لیے میں جلد سے جلد بھی رات نو بجے تک گھر پہنچتا ہوں۔ رمضان کے دنوں میں مجھے اضافی کام کرنا پڑتا تھا اور میں رات ایک بجے سے قبل گھر نہیں پہنچ پاتا تھا۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں مناسب تنخواہ دی جا رہی ہے؟ یاسین کا کہنا تھا کہ ’نہیں، یقیناً یہ مناسب نہیں ہے۔ لیکن ڈھونڈنے کے باوجود مجھے ایسی نوکری نہیں ملی جہاں اس سے زیادہ پیسے مل سکیں۔

’ظاہر ہے یہ لوگ ہمارے حالات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، کیونکہ یہ لوگ اردن کے لوگوں کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں کرتے، یہ انھیں بہتر مواقع دیتے ہیں۔

’وہ ہم سے صرف صفائی کے کام کرواتے ہیں۔ ہم شام میں اس سے بہتر زندگی گزار رہے تھے لیکن پھر وہاں صورت حال بدل گئی، اس لیے اب ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

یاسین کے والد ماہر کے جسم کا نچلا حصہ شام میں ان پر کیے جانے والے تشدد کی وجہ سے بیکار ہو گیا ہے جس کے باعث وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ جبکہ ان کی والدہ دن میں چند گھنٹوں کے لیے گھریلو ملازمہ کی حیثیت سے کام کرتی ہیں تاہم انھیں بھی خون کا جان لیوا مرض لاحق ہے۔

یہ خاندان، والدین اور چار بچے، مالک مکان کے ایک ہزار پاؤنڈ جتنی بڑی رقم کے مقروض ہیں۔

تمکین کی ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر دیالا الامیری کہتی ہیں کہ اردن آجر شامی پناہ گزین خاندانوں اور ان کے بچوں کو درپیش مشکل حالات کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’شامی پناہ گزین بچے ریستورانوں میں، بازاروں میں، اور اس طرح کے مختلف کاروباروں میں، اور خاص طور پر زراعت کی صنعت میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔

’زرعی صنعت کے ساتھ مسائل یہ ہیں کہ وہاں ان بچوں کو بہت برے حالات میں کھلے آسمان تلے بہت طویل گھنٹوں تک کام کرنا پڑتا ہے۔

’ان میں سے کچھ لوگ پیسوں کے لیے کام نہیں کرتے۔ پورا خاندان، والد، والدہ، اپنے پانچ یا چھ بچوں کے ساتھ صرف اپنے سر پر سایہ برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ سب سے بڑے بچے کی عمر 13 سال جبکہ زراعت کی صنعت میں محض تین سال کے بچے بھی کام کر رہے ہیں۔‘

دیالا الامیری کہتی ہیں کہ یہ زمیندار شام کے پناہ گزین خاندانوں کو اپنے دیگر کارکنوں سے الگ رکھتے ہیں اور ان میں سے کئی خاندانوں کو رہائش کے لیے صرف خیمے مہیا کیے جاتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جدید دور کی غلامانہ مشقت ہے۔ یہ خاندان جن حالات میں رہنے پر مجبور ہیں وہ بہت ہی مایوس کن ہیں لیکن وہ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے یہ نوکریاں کر رہے ہیں۔‘

اردن میں رہنے والے 14 لاکھ شامی باشندوں میں سے ساڑھے چھ لاکھ پناہ گزین ہیں۔ تقریباً ایک لاکھ سے اوپر افراد پناہ گزینوں کی خیمہ بستیوں میں رہ رہے ہیں جبکہ باقی زیادہ تر کرائے کی عمارتوں یا گھروں میں مقیم ہیں۔

بچوں سے مشقت لینے سے متعلق آخری سرکاری رپورٹ سنہ 2007 میں جاری ہوئی تھی جس کے مطابق تقریباً 33 ہزار بچے اردن کی لیبر مارکٹ میں کام کر رہے تھے۔ تمکین کے مطابق شام میں جاری تنازعے کے باعث یہ تعداد اب دوگنی ہو چکی ہے۔

اردن کی لیبر کی وزارت کے حکام کی جانب سے بی بی سی کو فراہم کردہ تفصیلات میں سینکڑوں ایسے اداروں کا نام ہے جو بچوں سے ناجائز طور پر کام لے رہے تھے۔ گذشتہ سال ایسی 213 کمپنیوں کو بند کر دیا گیا تھا۔

Image caption شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث بڑی تعداد میں شہریوں نے اردن سمیت ہسمایہ ممالک کا رخ کیا ہے

اس سال اب تک 353 کمپنیوں کو بند کیا جا چکا ہے جبکہ 799 مالکان کو 250 اردنی دینار سے 500 دینار تک جرمانہ کیا جا چکا ہے۔

وزارت کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ جن بچوں کے حقوق کا استحصال کیا جا رہا تھا ان میں سے نصف کے قریب شامی پناہ گزین تھے۔

لیبر کی وزارت کی پالیسی اینڈ مینیجمنٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر رغدا الفوری نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اس مسئلے کی شدت کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکومت قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر عائد کیے جانے والے جرمانے بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہو سکتا ہے کہ لیبر کی وزارت کی جانب سے عائد کیے جانے والے جرمانے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے لیکن اس کے لیے ہمیں قانون میں ترمیم کرنی پڑے گی۔

’ہمیں قانون کا پھر سے جائزہ لینا پڑے گا اور یہ دیکھنا ہو گا کہ کیے گئے اقدامات سے ایسے واقعات میں کمی آ رہی ہے یا وہ بڑھ رہے ہیں۔ اگر ایسے کیسوں میں کسی قسم کا اضافہ دیکھنے میں آتا ہے تو ہمیں اس قانون پر نظرثانی کرنی ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ادرن میں رہنے والے 14 لاکھ شامی باشندوں میں سے ساڑھے چھ لاکھ پناہ گزین ہیں

لیبر وزارت کے بچوں کے یونٹ کی سربراہ شیریں طیب 180 انسپکٹروں کی نگران ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ صرف قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرنے یا ان کمپینوں کو بند کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ ہمیں ان بچوں کی مدد کرنی ہو گی۔ خواہ وہ بچے شامی ہوں، اردنی ہوں یا کہیں اور کے ہوں۔‘

اسی دوران یاسین کی والدہ عالیہ انھیں سکول سے نکالنے کے فیصلے پر پچھتا رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’یہ بہت ہی مشکل فیصلہ تھا، کیونکہ وہ بہت ہونہار طالبعلم تھے، ان کا شمار نمایاں طلبہ میں ہوتا تھا۔

’وہ سکول میں بہت تیز تھے اور میں نے ہمیشہ ان کی تعلیم مکمل کروانے کا خواب دیکھا تھا۔ میں اس مسئلے کے بارے میں ہر روز سوچتی ہوں اور روزانہ افسردہ ہو جاتی ہوں۔‘

اسی بارے میں