کینیا: سیکس ٹوائے خریدنے پر وزیر سے پوچھ گچھ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملک میں پارلیمانی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی اخراجات سے متعلق جن پہلوں کی جانچ کر رہی ہے اس لسٹ میں سرکاری خرچے پر جنسی کھلونے خریدنے کا معاملہ بھی شامل ہے

کینیا کے ایک سینیئر رکن پارلیمان نکولس گومبو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دیہی ترقیات کی وزارت نے سرکاری خرچے پر سیکس ٹوائز کی خریداری کی۔

ملک میں پارلیمانی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی اخراجات سے متعلق جن پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے اس لسٹ میں سرکاری خرچے پر جنسی کھلونے خریدنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

کینیا میں دیہی ترقیات کی وزارت پر بہت مہنگی دیگر اشیا خریدنے کا بھی الزام ہے۔ لیکن اس سے متعلق وزیر اینی وائیگورو، جن پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، نے اس سے انکار کیا ہے۔

نکولس گومبوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فہرست کو دیکھ کر وہ حیرت میں پڑگئے۔

سیکس ٹوائز خریدنے کے الزامات کے ساتھ ہی وزارت پر کنڈوم ڈیسپینسرز ( کنڈوم نکالنے والی خودکار مشین)، سٹیشنری، فوٹو کاپی کرنے والی مشین، پیانو اور وزارت کے لیے ٹی وی سیٹ مہنگے داموں پر خریدنے کا بھی الزام ہے۔

دارالحکومت نیروبی میں بی بی سی کے نامہ نگار بشکاش چکسوڈا کا کہنا ہے کہ جمعرات کو پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی نے اس سلسلے میں متعلقہ وزیر وائیگورو سے تقریباً چار گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی۔

وائیگورو نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے اپنے دفتر کے لیے 19 ہزار ڈالر کا ٹی وی سیٹ خریدا ہے اور کہا کہ وہ 250 ڈالر کے کنڈوم ڈسپینسر کی خرید و فروخت میں بھی ملوث نہیں تھیں۔

انہوں نے سیکس ٹوائز کے بارے میں بات نہیں کی۔

اس سے قبل انہوں نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے مذکورہ بدعنوانی سے اپنے آپ کو علیحدہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ انہوں نے اپنی وزارت کے لیے ایسا کچھ بھی نہیں خریدا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے آفس میں نہ تو کوئی ایسا ٹی وی ہے اور نہ ہی پیانو جس کی بات کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں