’روسی فوج کی حفاظت کے لیے شام میں میزائل سسٹم بھی بھیجا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روسی فضائیہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ہر قسم کے خطرے کے لیے تیار رہنا ہوگا

روس کی فضائیہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ روس نے اپنی افواج کی حفاظت کے لیے میزائل سسٹم بھیجا ہے۔

جمعرات کو کرنل جنرل وکٹر باندروو کا کہنا تھا کہ شام کے پڑوسی ممالک میں لڑاکا طیاروں کو ہائی جیک کرنے کے بعد روسی افواج کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیے جانے کا خطرہ ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق روسی فضائیہ کے سربراہ نے روسی اخبار کو بتایا کہ ’ہم نے تمام ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا ہے۔ ہم نے نہ صرف لڑاکا طیارے، بمبار اور ہیلی کاپٹر بھیجے ہیں بلکہ میزائل کا نظام بھی بھیجا ہے۔ ہمیں تیار رہنا ہوگا۔‘

خیال رہے کہ امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے شام اور عراق کے بہت سے علاقوں پر قابض دولت اسلامیہ کے خلاف ایک سال سے بھی زیادہ عرصے سے فضائی کارروائی جاری ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں شام کے باغیوں کو تربیت دینے کا پروگرام ترک کرکے باغی رہنماؤں کو براہ راست اسلحے اور دوسرے جنگی سازو سامان فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی حکام کے مطابق شام کی فضائی حدود میں ایک امریکی اور ایک روسی طیارے کے درمیان ’طے شدہ منصوبے کے تحت مواصلاتی رابطے کی مشق‘ کی گئی تھی۔

پینٹاگون کا کہنا تھا کہ یہ مشق تین منٹ تک جاری رہی تھی اور اس کا مقصد گذشتہ ماہ طے کیے جانے والے متفقہ ’حفاظتی پروٹوکول کی توثیق کرنا تھا۔‘

گذشتہ ماہ دونوں ممالک کے طیارے ایک ہی ’جنگی فضائی حدود‘ میں داخل ہوکر ایک دوسرے سے محض چند میل کے فاصلے پر آگئے تھے۔

اسی بارے میں