روس ایران کو دفاعی میزائل نظام فراہم کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption S-300 میزائل ایران کا فضائی دفاع بہتر بنا سکتے ہیں

روس نے ایران کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے S-300 جدید میزائل فراہم کرنے کا معاہدہ طے کیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں سے کیے گئے معاہدے کے بعد دفاعی نظام کا یہ سمجھوتہ کیا گیا ہے۔

ایران سے پابندیاں اٹھانے کی امریکہ، یورپ کی منظوری

’بات آگے بڑھی ہے، مگر کچھ معاملات اب بھی حل طلب ہیں‘

ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ نے پابندیاں اس سال کی ابتدا میں اس وقت اٹھا دی تھیں جب ایران نے اپنے پروگرام کو محدود کرنے کی شرط مان لی تھی۔

اسرائیل، امریکہ اور سعودی عرب اس سمجھوتے کی مخالفت کرتے ہیں۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان میزائلوں کی پہلی کھیپ 18 ماہ کے اندر بھیج سکتے ہیں۔

اسلحہ بنانے والی روسی کمپنی ’روسٹیک‘ کے سربراہ سرگے چیمزاو نے دبئی ایئر شو میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ایران کو S-300 میزائل فراہم کرنے کے معاہدے پر دونوں شراکت داروں نے نہ صرف دستخط کیے ہیں بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کیا جا رہا ہے۔‘

اس معاہدے پر دستخط سنہ 2007 میں کیے گئے تھے لیکن ایران پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہونے کی وجہ سے روس نے اسے سنہ 2010 میں منجمد کر دیا تھا۔

صدر ولادیمیر پوتن نے اپریل میں اسے دوبارہ بحال کیا تھا۔

اسرائیل اور امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران ان میزائلوں کے ذریعے اپنی جوہری تنصیبات کی ممکنہ فضائی حملوں کے خلاف حفاظت کر سکتا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق S-300B4 میزائل جنگی جہازوں اور دیگر میزائلوں سمیت مختلف اہداف کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

یہ میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز سفر سکتے ہیں اور 400 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔

مسٹر چیمزاو نے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب نے روسٹیک سے بار بار درخواست کی ہے کہ وہ ایران کو میزائل فراہم نہ کرے۔

لیکن انھوں نے اصرار کیا کہ یہ میزائل ایک دفاعی ہتھیار ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ان کے حوالے سے کہا: ’اگر خلیجی ممالک ایران پر حملہ نہیں کرنا چاہتے تو وہ خطرہ کیوں محسوس کر رہے ہیں؟ یہ تو صرف دفاعی ہتھیار ہے۔‘

اسی بارے میں