میانمار کے انتخابات میں پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میانمار میں کئی دہائیوں تک فوج کی حکومت رہی اور اس سے قبل تمام انتخابات فوج ہی کی نگرانی میں ہوتے رہے ہیں

میانمار (سابق برما) میں 25 سال بعد ہونے والے آزادانہ عام انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ملک کے 80 فیصد شہریوں نے ووٹ ڈالے۔ اس موقعے پر ملک بھر میں رائے دہندگان میں جوش وخروش دیکھنے میں آیا۔

میانمار کے تاریخی انتخابات میں پولنگ مکمل

میانمار میں انتخابی مہم کا آخری دن

جیت گئےتو میری حیثیت ’صدر سے بالا تر ہو گی‘

میانمار میں کئی دہائیوں تک فوج کی حکومت رہی ہے اور اس سے قبل تمام انتخابات فوج ہی کی نگرانی میں ہوتے رہے ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) زیادہ تر پارلیمانی نشستیں جیتے گی، اگرچہ برما کے آئین کے تحت آنگ سان سوچی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں۔

میانمار میں سنہ 2011 سے حکومت کرنے والی جماعت یونین سولیڈیریٹی ڈیویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) اقتدار میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اندازے کے مطابق میانمار میں تین کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ میانمار میں 25 سال بعد ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کا عمل پر امن رہا۔

میانمار میں تین کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

میانمار کی پارلیمان 664 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں 90 جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار سے زائد امید واروں نے حصہ لیا۔

ان انتخابات کے لیے پارلیمان کی 25 فیصد نشستیں فوج کے نمائندوں کے لیے مختص ہوں گی۔

نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی اپنی پارٹی این ایل ڈی کے کامیاب ہونے کے باوجود بھی ملک کی صدر نہیں بن سکیں گی، کیونکہ برما کے آئین کے مطابق کوئی بھی ایسا برمی مرد یا عورت ملک کا صدر بننے کا اہل نہیں ہے جس نے کسی غیر ملکی شہری سے شادی شدہ ہو یا اس کے بچے غیر ملکی ہوں۔

آنگ سان سوچی کے دو بیٹے برطانوی شہری ہیں اور ان کے برطانوی شوہر وفات پا چکے ہیں۔

جمعرات کو ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سوچی نے کہا کہ اگر ان کی جماعت جیت گئی تو وہ ’صدر سے بالاتر‘ ہوں گی۔

سوچی کی جماعت این ایل ڈی کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے تمام انتخابی نشستوں میں سے 67 فیصد جیتنا لازمی ہوں گی۔

میانمار میں ووٹنگ سے پہلے سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے اور 40 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سوچی پہلے ہی انتخابات میں دھاندلی اور بے ترتیبی کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں۔

سنہ 1990 کے انتخابات میں بھی این ایل ڈی نے ا کثریت حاصل کر لی تھی لیکن فوج نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں