سوچی کا بھاری اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آن سانگ سوچی کی جماعت کو شہری علاقوں میں نسبتاً زیادہ حمایت حاصل ہے

میانمار میں حزب اختلاف کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے ملک میں 25 سال بعد ہونے والے آزادانہ انتخابات کے نتائج کے سرکاری اعلان سے قبل دعویٰ کیا ہے کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر رہی ہے۔

میانمار کے تاریخی انتخابات میں پولنگ مکمل

میانمار میں انتخابی مہم کا آخری دن

جیت گئےتو میری حیثیت ’صدر سے بالا تر ہو گی‘

این ایل ڈی کے ایک ترجمان ون تھین نے سوموار کی سہ پہر اعلان کیا کہ ان کی جماعت کو 70 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ این ایل ڈی کی سربراہ آنگ سان سوچی نے کہا کہ ’آپ سب کو انتخابی نتائج کا اندازہ تو ہو ہی گیا ہے۔‘

اب تک صرف ینگون شہر کی 12 نشستوں کے نتائج کا اعلان ہوا ہے اور ان تمام نشستوں پر این ایل ڈی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اندازے کے مطابق میانمار میں تین کروڑ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا

فوجی کی حمایت یافتہ یونین سولیڈیرٹی ڈویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) سنہ 2011 سے اقتدار میں ہے۔

میانمار میں این ایل ڈی کے ایک ترجمان نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم 70 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کر رہے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کو ابھی سرکاری طور پر نتائج کا اعلان کرنا ہے۔‘

حکمران جماعت یو ایس ڈی پی کے قائم قام چیئرمین تہے اؤ نے بی بی سی کی برما سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی نشست ہار گئے ہیں اور اس نشست پر این ایل ڈی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس سے باقی نتائج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

تہے او کا کہنا تھا کہ ’انھیں اپنی شکست کی وجہ معلوم کرنا ہے۔‘ انھوں نے اپنی ناکامی کا بغیر کسی تحفظ کے اعتراف کیا اور کہا کہ حتمی نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔

قبل ازیں آنگ سان سوچی نے ینگون میں اپنی جماعت کے ہیڈ کوارٹر کے باہر اپنے حمایتیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھیں صبر اور تحمل کی تلقین کی۔

برما میں آئین کے مطابق منتخب اسمبلی میں ایک چوتھائی نشستیں فوج کے لیے مختص ہیں اور این ایل ڈی کو ایوان میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے لیے جن نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں ان میں دو تہائی پر کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔

ینگون میں موجود بی بی سی کے جونا فشر کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں حمایت رکھنے والی جماعت کے لیے مشکل کام ہے کہ وہ دیہی علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کرے جہاں اقلیتی فرقوں کی جماعتیں زیادہ مضبوط ہیں۔

آنگ سان سوچی کے لیے صدر بننے میں ایک اور رکاوٹ آئین کی وہ شق ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جس کے کسی غیر ملکی سے بچے ہوں، وہ ملک کا صدر نہیں بن سکتا۔ آنگ سان سوچی کے برطانوی شوہر سے دو بچے ہیں۔

میانمار میں اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ملک کے 80 فیصد شہریوں نے ووٹ ڈالے۔

میانمار میں کئی دہائیوں تک فوج کی حکومت رہی اور اس سے قبل تمام انتخابات فوج ہی کی نگرانی میں ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں