بوڑھوں میں طلاق کی بڑھتی شرح

تصویر کے کاپی رائٹ ALAMY
Image caption آفس آف نیشنل سٹیٹسکس کے مطابق سنہ 1990 کی دہائی سے انگلینڈ اور ویلز میں 60 برس کی عمر میں طلاق دینے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے

دنیا میں جہاں طلاق دینے کی شرح میں کمی آ رہی ہے وہیں عمر رسیدہ افراد میں طلاق لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس عمل کی وجوہات کیا ہیں؟

’جب میں نے اس سے شادی کی درخواست کی تو مجھے فوراً ہی احساس ہوا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔ لیکن انتظامیہ نے منگنی کا اعلان مقامی اخبار کے پہلے صفحے پر کر دیا اور میرے لیے اس سے پیچھے ہٹنا مشکل ہو گیا۔‘

یہ کہنا تھا پیٹر (فرضی نام) جنھوں نے 28 سال کی عمر میں شادی کر لی، لیکن 36 سال بعد وہ واقعی پیچھے ہٹ گئے۔

طلاق پارٹیوں کا پھلتا پھولتا کاروبار

طلاق منائیں دھوم دھام سے

پیٹر کے بقول ’میں نے گرم کپڑے اوڑھ لیے اور کار میں بیٹھ گیا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ دروازے میں کھڑی تھی۔ مجھے افسوس بلکہ پچھتاوا ہونے لگا کہ میں اسے واقعی تکلیف پہنچا رہا تھا۔‘

آفس آف نیشنل سٹیٹسکس کے مطابق سنہ 1990 کی دہائی سے انگلینڈ اور ویلز میں 60 برس کی عمر میں طلاق دینے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

ادارے کے مطابق بقایا آبادی میں اس رحجان میں کمی ہوئی ہے تاہم (سنہ 2012 میں اس میں معمولی اضافہ بھی ہوا)۔

برطانیہ اور ویلز میں سنہ 2011 میں تقریباً 9,500 مردوں نے اپنی بیویوں کو طلاق دی جو گذشتہ 20 سالوں کے مقابلے میں طلاق دینے کی تین چوتھائی شرح تھی۔

اس عرصے میں برطانوی خواتین میں بھی طلاق لینے کی شرح میں مماثلت پائی گئی۔

Image caption پیٹر کا اینی کے ساتھ محبت کا رشتہ اس وقت شروع ہوا جب وہ اور اینی گرجا گھر میں دو موسیقی کی مشق کر رہے تھے

پیٹر کا اینی کے ساتھ محبت کا رشتہ اس وقت شروع ہوا جب وہ اور اینی گرجا گھر میں ساز بجانے کی مشق کر رہے تھے کہ ان میں محبت ہو گئی۔

اس حوالے سے اینی کا کہنا ہے: ’ہم اچھے دوست تھے اور یہی وہ خوبی تھی جو میرے پہلے خاوند میں نہیں تھی۔‘ اینی نے 50 برس کی عمر میں اپنے پہلے خاوند سے طلاق لی تھی۔

محققین کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں طلاق لینے کے عمل میں تیزی عمر میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

برطانوی لا فرم کے جی ڈبلیو کے لیے کام کرنے والی ایک وکیل کیرن واکر کا کہنا ہے کہ لوگ اپنی ریٹائرمنٹ سے زیادہ کی امید رکھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ لوگ اپنی عمر کے تیسرے حصے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔

برسٹل میں قانونی مشیر کے طور پر کام کرنے والی باربرا بلوم فیلڈ کا کہنا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں میں عمر کا فرق بعد کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فرض کریں کہ ایک نوجوان شادی شدہ جوڑے کی عمر میں دس برس کا فرق ہے لیکن یہ فرق کچھ بھی نہیں ہے لیکن جب یہی فرق 70 سے 80 برس کے جوڑے کا ہو تو چیزیں بالکل بدل جاتی ہیں۔

باربرا بلوم فیلڈ کے خیال میں اکثر شادی شدہ جوڑوں میں عمر کا جو فرق ہوتا ہے اس میں نوجوان پارٹنر یہ سوچتا ہے: ’او خدا میری باقی زندگی اسے دیکھتے گزرے گی۔‘

طلاق لینے میں دولت کا بھی ایک اہم عنصر ہوتا ہے۔ عمر رسیدہ افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں پینشن زیادہ ملے گی۔ ان کی جائیداد بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور دوسرے لوگوں کی نسبت ریٹائر ہونے والے افراد زیادہ طلاق کو برداشت کر سکتے ہیں۔

ڈیوڈ (فرضی نام) کو ان کی 70 سالہ بیوی نے چھوڑ دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس دوران آپ مختلف مراحل سے گزرتے ہیں، غصہ، پشیمانی، بطور خاوند آپ اپنے آپ کو ٹھکرایا ہوا سمجھتے ہیں۔

ڈیوڈ کو یقین ہے کہ ان کا رشتہ ختم ہونے کی بڑی وجہ چند سال قبل ان کے بیٹے کی خود کشی اور ان کی خراب صحت بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی بیوی کئی برس سے خوش نہیں تھی، میں نے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا اور وہ مالی آزادی حاصل کرنا چاہتی تھی۔

کیرن واکر کا کہنا ہے کہ 60 یا 70 برس کی عمر میں طلاق دینا ان خاندانوں میں زیادہ خلل ڈال سکتا ہے۔

عمر رسیدہ افراد کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے والی ’سلور لائن‘ نامی تنظیم کی بانی ڈیم ایستھر رینٹزین کا کہنا ہے کہ میں ایسے افراد کی تنہائی سے پریشان ہوں۔

انھیں تشویش ہے کہ یہ مسئلہ بہت پہلے طلاق لینے والے لوگوں کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہے۔

جب وہ اتنا بڑا قدم اٹھاتے ہیں تو انھیں شاید اس سے زیادہ نقصان ہو جتناانھیں اندازہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں سے تعلق کھو سکتے ہیں کیونکہ طلاق کا عام طور پر مطلب یہ ہوتا ہے کہ بچے والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ رہیں۔

اسی بارے میں