اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں پر مزید حملے، ایک حملہ آور ہلاک

Image caption واقعات حالیہ ہفتوں میں جاری تشدد کی لہر کا تسلسل ہیں جس میں اب تک 10 اسرائیلی اور درجنوں فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم میں ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کو دو فلسطینی لڑکوں نے چاقو کے حملے میں زخمی کر دیا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق 12 سالہ حملہ آور کو گولی مار کر زخمی کیا گیا جبکہ دوسرے 13 سالہ حمہ آور کو زخمی کیے بغیر پکڑ لیا گیا۔

امریکہ اسرائیل کا دفاعی معاہدہ، اسرائیل کا دفاع امریکہ کی اولین ترجیح

یروشلم میں تشدد، خطے کو کس سمت میں لے جائے گا؟ ویڈیو رپورٹ

کیا ہم تیسرے انتفادہ کی طرف جارہے ہیں؟ ویڈیو رپورٹ

فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں پر ایک نظر: ویڈیو رپورٹ

اس واقعے کے علاوہ یروشلم کے علاقے ابو دیس کے مضافات میں اسرائیلی پولیس کے مطابق ایک 37 سالہ فلسطینی کو سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے کی کوشش میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔اس شخص کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں فلسطینی لڑکوں نے بسغات زئيف کی یہودی بستی میں ٹرین پر سوار ایک سکیورٹی اہلکار پر چاقو سے حملہ کر کے اسے معمولی زخمی کر دیا۔

زخمی اہلکار نے 12 سالہ حملہ آور کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا جبکہ دوسرے 13 سالہ حملہ آور کو مسافروں نے دبوچ لیا اور بعد میں پولیس کے حوالے کر دیا۔

گذشتہ ایک ماہ کے دوران اسرائیلی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے فلسطینیوں میں یہ دونوں لڑکے سب سے کم عمر بتائے جاتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں حملوں کی دیگر دو اور کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔

خیال رہے کہ یہ واقعات حالیہ ہفتوں میں جاری تشدد کی لہر کا تسلسل ہیں جس میں اب تک 10 اسرائیلی اور درجنوں فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں حملوں کی دیگر دو اور کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا

فلسطینی ہلاکتوں میں زیادہ تعداد حملہ آوروں کی بتائی جاتی ہے۔

یروشلم میں تشدد کے تازہ واقعات اس وقت پیش آئے ہیں جب ایک دن پہلے ہی اسرائیلی وزیراعظم کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات ہوئی ہے۔

حالیہ تشدد میں تیزی ستمبر کے مہینے میں اس وقت آئی جب مشرقی یروشلم میں یہودیوں اور مسلمانوں کے ایک مقدس مقام کے بارے میں اس افواہ سے اشتعال پھیل گیا کہ اسرائیل اس مقام پر یہودیوں کے حقوق کو مضبوط کرنے کے لیے قوانین بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔اسرئیل کئی بار ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔

اسی بارے میں