سینگال کے صدر کی ’انتہا پسند اسلام‘ کی مذمت

Image caption سینیگال کے صدر کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو اس معاملے میں بڑے پیمانے پر انٹیلیجنس کا تبادلہ کرنا چاہیے

سینیگال کے صدر میکی سال نے ’اسلام کی انتہا پسند شکل‘ کے خلاف جنگ کا مطالبہ کیا ہے جس کی وجہ سے جہادی تنظیموں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمان علما کو ’رودار اسلام‘ اسلام کی ترغیب کے لیے تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

سینیگال کے صدر خود بھی مسلمان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو اس معاملے میں بڑے پیمانے پر انٹیلیجنس کا تبادلہ کرنا چاہیے۔

گذشتہ ہفتے سینیگال کے حکام نے بتایا تھا کہ دو آئمہ مسجد منی لانڈرنگ اور شدت پسندوں سے رابطے کے الزام میں گرفتار کیے گئے ہیں۔

یہ سینیگال میں ایسا پہلا معاملہ ہے اور سینیگال نسبتاً روادار اسلام کا پیروکار ملک ہے۔

نائیجیریا اور مالی سمیت دیگر مغربی افریقی ریاستیں پہلے ہی القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ سے منسلک جہادی تنظیموں سے لڑ رہی ہیں۔

ڈاکار میں امن اور سلامتی سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیگال کے صدر کا کہنا تھا کہ لوگوں میں ’اسلام کی انتہاپسند شکل‘ کا مقابلہ کرنے کی ہمت ہونی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شدت پسندوں کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مذہب کی ایک ایسی شکل ہم پر مسلط کریں جو ہماری روایات اور اسلام کے تصور سے متصادم ہو۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ہمیں فلسفیانہ اور مذہبی مباحثے کا آغاز کرنا چاہیے، اور آئمہ کو رواداری کے احساس کی تربیت دینی چاہیے۔ ‘

اسی بارے میں