تارکینِ وطن کی کشتی سمندر میں ڈوب گئی، کم از کم 14 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی اور یونان کے درمیان سمندر میں کشتی ڈوبنے کے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں سات بچے بھی شامل ہیں

ترکی کے راستے بحیرۂ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی ہے جس میں کم سے کم 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ حادثہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب یورپی یونین اور افریقی رہنما تارکینِ وطن کے بحران پر بات چیت کے لیے افریقہ کے ملک مالٹا میں ملاقات کر رہے ہیں۔

ترکی اور یونان کے درمیان سمندر میں کشتی ڈوبنے کے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں سات بچے بھی شامل ہیں۔کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ 27 افراد کو زندہ بچا لیا ہے۔

مالٹا میں افریقہ اور یورپی یونین کے رہنماؤں کا اجلاس اُس وقت بلایا گیا تھا، جب رواں سال اپریل میں لیبیا کے ساحل کے قریب 800 تارکین وطن سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال یورپ میں آٹھ لاکھ تارکینِ وطن داخل ہوئے ہیں جبکہ اس خطرناک سفر میں 3440 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

یورپ آنے والوں میں ڈیڑھ لاکھ افراد کا تعلق افریقی ممالک سے ہے۔

عالمی اُمور پر بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ رواں سال تارکینِ وطن کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور یورپی رہنما اس کے حل میں مربوط پالیسی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے مالٹا میں دو دن تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں یورپی رہنما تارکینِ وطن کے بحران میں مدد دینے کے لیے افریقہ کو اربوں یورو کی پیشکش کریں گے۔

یورپی کمیشن نے افریقہ کے لیے ایک ارب 80 کروڑ مالیت کا ’ٹرسٹ فنڈ‘ بنایا ہے اور رکن ممالک سے کہا ہے کہ فنڈ کے لیے رقم فراہم کریں۔

فنڈ بنانے کا مقصد افریقی ممالک میں اقتصادی مسائل کو ختم کرنا اور سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے تاکہ یورپ میں پناہ کے خواہشمند افراد کو واپس بھجوایا جائے۔

مالٹا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کریس مورس کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ افریقی رہنما اس بات پر زور دیں گے کہ قانونی طور پر یورپ منتقل ہونے والوں کے لیے طریقہ کار ترتیب دیا جائے۔

دوسری جانب سوئیڈن کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی آمد کنٹرول کرنے کے لیے وہ سرحدی کنٹرول کے لیے عارضی اقدامات کرنے پر غور کر رہا ہے۔

اسی بارے میں