میانمار کے صدر کی آنگ سوچی کی جماعت کو مبارکباد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جاری شدہ نتائج میں آنگ سان سو چی کی جماعت کو 90 فیصد ووٹوں سے برتری حاصل ہے

میانمار کے صدر تھین سین نے آنگ سوچی کی جماعت این ایل ڈی کو انتخاب میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

صدر کے ترجمان یو یی ہتوت نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر تھین سین آزادانہ منصفانہ اور پرامن انتخابات پر میانمار کے عوام کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔

صدراتی ترجمان نے مزید کہا کہ صدر تھین سین این ایل ڈی کو انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دیتے ہیں۔

ترجمان نے کہا :’ہماری حکومت لوگوں کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اقتدار منتقل کرے گی۔‘

اس سے قبل حزب اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی نے قومی مفاہمت پر مذاکرات کی غرض سے فوجی حمایت یافتہ قیادت سے ملاقات کی درخواست کردی ہے۔

ان کی جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کو اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔

’جیت گئے تو میری حیثیت صدر سے بالا تر ہو گی‘

’انتخابات شفاف تھے منصفانہ نہیں‘

اب تک 47 فیصد نشستوں کے نتائج جاری کیے جا چکے ہیں جن میں این ایل ڈی کو 90 فیصد ووٹوں سے برتری حاصل ہے۔ دوسری جانب فوج کی حمایت یافتہ جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کے حصے میں صرف پانچ فیصد نشستیں آئی ہیں جبکہ ایک چوتھائی نشستیں فوج کے لیے مختص ہیں۔

حزب اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی نے میانمار کے صدر تھین سین، آرمڈ فورسسز کے کمانڈر، اور پارلیمان کے سپیکر کے نام خطوط تحریر کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آنگ سان سو چی ’غیر ملکی‘ اولاد کی وجہ سے میانمار میں اعلی عہدے پر فائز ہونے کے اہل نہیں ہیں

ینگون میں بی بی سی کے سربراہ جوناتھن کہتے ہیں کہ گذشتہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی فوجی حمایت یافتہ جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کی حالیہ شکست ان کے لیے ذلت آمیز ہے۔ خیال رہے کہ پانچ سال قبل ہونے والے انتخابات کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جوناتھن کہتے ہیں کہ ممکنہ طور پر نئی پارلیمان میں اب این ایل ڈی کو برتری حاصل ہوگی اور مخالفت میں صرف فوجی دھڑے رہ جائیں گے۔ تاہم آئینی طور پر سوچی صدارت کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتی ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق آنگ سان سوچی نے اب تک فتح کا اعلان نہیں کیا ہے اور وہ بہت احتیاط سے کام لے رہی ہیں جبکہ وہ اگلے ہفتے تین سب سے سینیئر حکومتی اہلکاروں کے ساتھ حکومت کے مرحلہ وار تبادلے کے لیے بات چیت بھی کر رہی ہیں۔

میانمار کے مقامی خبر رساں ادارے ارراوادی کی ویب سائٹ کے مطابق این ایل ڈی کی جانب سے شائع ہونے والے ان کے خطوط میں وہ لکھتی ہیں کہ ’لوگوں کی خواہشوں کو پُرامن طریقے سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک کے وقار اور لوگوں کے ذہنی سکون کے لیے بہت ضروری ہے۔اس لیے میں آپ سے قومی مفاہمت کی خاطر بات کرنا چاہتی ہوں۔مہربانی کرکے اگلے ہفتے آپ کے لیے جو وقت موزوں ہو آپ ملاقات رکھ لیں۔‘

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق میانمار کے وزیر اطلاعات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے پیج پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت انتخابات کے نتائج کا احترام کرے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس ملاقات کی درخواست کی گئی ہے وہ تب ہی ممکن ہے جب الیکشن کمیشن اپنا کام مکمل کرلے گا۔

اسی بارے میں