بھارت اور برطانیہ کے درمیان تعلقات پر نظر

اب جب کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سرکاری دورے پر پہنچے ہیں تو بھارت میں برطانوی کونسل کے ڈائریکٹر روب لائنس نے دونوں ممالک کے درمیان روابط پر نظر ڈالی ہے۔

اقتصادی تعلقات کی موجودہ حالت کیا ہے؟

بھارت اور برطانیہ کے تعلقات مضبوط ہیں اور اِن کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور اب یہ دونوں ملک مستقبل کے نقطۂ نظر کا تبادلہ کررہے ہیں۔

سنہ 2010 سے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے تین بار بھارت کا دورہ کیا ہے اور بھارت میں موجود برطانیہ کا سفارتی نیٹ ورک دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔

دونوں ممالک میں ایک دوسرے کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور تعاون میں دوبارہ تیزی آئی ہے۔

برطانیہ بھارت میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، جب کہ بھارت، امریکہ اور فرانس کے بعد برطانیہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری (منصوبوں کی تعداد کے لحاظ سے) تیسرا بڑا ملک ہے۔

برطانیہ کی زیادہ تر درآمدات بھارت سے آ رہی ہیں، البتہ کئی برسوں کی ترقی کے بعد ملک کی برآمدات میں رکاوٹ آنا شروع ہوگئی ہے۔

بھارتی کمپنیاں برطانیہ کی معیشت میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مثال کے طور پر ٹاٹا گروپ برطانیہ کے بڑے صنعت کاروں میں سے ایک ہے اور اِس کے برطانیہ میں 65,000 ملازمین ہیں۔

بھارت کے لیے برطانیہ کی ترسیلات بہت زیادہ ہیں۔اگرچہ اِس کے درست اعداد و شمار کو جاننا مشکل ہے۔

سنہ 2013 میں گارڈیئن کی عالمی بینک کے اعداد و شمار کی مدد سے تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارت کے لیے برطانیہ کی ترسیلات کی مالیت رسمی اور غیر رسمی طریقوں کے ذریعے سے غیر ریکارڈ شدہ منتقلیاں ملا کر 3.9 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔

برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی تعداد 21,000 ہزار سے زائد ہے۔ بھارتی طالبعلموں کے لیے چیوننگ اور دیگر وظائف کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سائنس اور تعلیمی میدان میں نئے اقدامات جیسے کہ نیوٹن بھابھا فنڈ کا قیام اور تحقیقی تعاون میں دس لاکھ پاؤنڈ سے لے کر 15 کروڑ پاؤنڈ تک کے اضافے سمیت یہ تمام اقدامات تعلقات کو مضبوط کرنے اور تجارت میں اضافے کے لیے ہیں۔

بھارت کی بین الاقوامی شراکت داری اور برطانیہ

1990 کی دہائی کے آغاز میں جب سے بھارت کی حکومت نے اپنی معیشت کو آزاد اور بین الاقوامی بنانے کے لیے اہم تبدیلیاں کی ہیں اور اِس سے ترقی کے دروازے کھلے ہیں اور یہ ترقی آج بھی جاری ہے۔

پندرہ سال قبل برطانیہ بھارت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار تھا اور آج اِس کا نمبر 12واں ہے۔

مودی اپنے اقتدار کے پہلے 18 مہینوں کے دوران تعلقات بنانے اور نئے معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے 27 ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اپنی ’مشرق کی جانب دیکھو‘ پالیسی کے باعث بھارت کی توجہ بھی جاپان کوریا اور چین کی جانب منتقل ہوگئی ہے۔ اِس سال مودی نے اپنے دورۂ چین کے دوارن 22 ارب امریکی ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کیے۔

گذشتہ آخری مہینے کے دوران بھارت نے 50 افریقی رہنماؤں کے اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت اِس خطے سے تعلقات اور تجارت بہتر بنا رہا ہے۔

اسی دوران نوجوان بھارتی تعلیم، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش میں تیزی سے امریکہ، آسٹریلیا، جرمنی کا رخ کر رہے ہیں۔

برطانوی بھارتیوں کا تعلقات میں کردار؟

بھارت اور برطانیہ میں مضبوط جمہوریت، مربوط ثقافتی اداروں اور انگریزی زبان کی دو سو سال سے زیادہ کی مشترکہ تاریخ ہے۔

برطانوی بھارتیوں نے دونوں ممالک کے درمیان کو بہتر بنانے کے لیے روابط کو مضبوط بنانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جن کی تعداد تقریباً 15 لاکھ ہے اور یہ برطانیہ کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔

یہ دنیا میں بھارتی عوام کا سب سے بڑا ساتواں پھیلاؤ ہے اور یہ برطانیہ میں زندگی کے ہر شعبے میں نمائندگی کر رہے ہیں۔

یہ بھارت اور برطانیہ کے درمیان صرف پل کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ بھارتی ثقافت کے ذریعے سے برطانیہ کو زرخیز بنانے میں مدد کر رہا ہے۔

برطانیہ دونوں کے مشترکہ مفادات میں تعلقات بنانے کے لیے اِس پھیلاؤ میں کافی مصروف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS

حال ہی میں برطانوی کونسل کے شائع ہونے والے سروے اور رپورٹ اِس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ نوجوان افراد اب بھی برطانیہ کے لیے اچھا محسوس کرتے ہیں اور اس ملک کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں خاص طور پر اُن کی ثقافت کی جانب۔

بھارت کے نوجوان متوسط طبقے سے 15 بڑی معاشیات کی تمام تر دلکش چیزوں کو سامنے رکھ کر درجہ بندی کرنے کو کہا تو اِس میں برطانیہ کا نمبر دوسرا رہا اور پہلے نمبر پر امریکہ آیا۔

اور اِن درست مواقع کے ساتھ برطانیہ کے لوگ بھارت میں دلچسپی دکھاتے ہیں۔ گذشتہ برس برٹش کونسل نے مختصر مدت کی تعلیم اور روزگار کے لیے بھارت میں ’جنریشن بھارت برطانیہ‘ کا آغاز کیا تھا۔ اور اِس میں تقریباً 4000 سے زائد نوجوان پہلے ہی درخواست دے چکے ہیں جو برطانیہ جانے کے خواہشمند ہیں۔

اسی بارے میں