یورپی جہادی نیٹ ورک پر عراق کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان افراد پر الزام ہے کہ وہ غیر ملکیوں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے عراق اور شام بھجواتے ہیں

یورپ کے مختلف ممالک میں پولیس نے ایک ’جہادی نیٹ ورک‘ کے خلاف کارروائیاں کر کے 13 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ غیر ملکیوں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے عراق اور شام بھجواتے تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یورپی ممالک کی پولیس کا کہنا ہے کہ اٹلی،فن لینڈ، جرمنی، ناروے برطانیہ اور سوئیزرلینڈ میں چھاپہ مارے گئے۔

حراست میں لیے گئے افراد میں ناروے میں زیر قید ملا کریکر کے گروہ کے افراد بھی شامل ہیں۔

اٹلی کی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ ملا کریکر کی رہائی کے لیے ناروہ اور برطانیہ کے سفارت کاروں کو محصور کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

ملا کریکر کا اصل نام نجم فراج احمد ہے، اور انھیں ناروے میں دو افراد کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ناروے اور دیگر یورپی ممالک میں پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ملا کریکر کا تعلق انتہا پسند اسلامی تنظیم انصار الاسلام سے ہے اور انھیں کئی بار جیل کی سزا ہو چکی ہے۔

جمعرات کو اٹلی ناروے اور برطانیہ میں چھاپے کے دوران حراست میں لیے گئے افراد پر مبینہ طور کردش حکومت کے خلاف برسرے پیکار ایک گروہ کے رکن ہونے کا الزام ہے۔

برطانوی پولیس کے انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے مطابق شمالی انگلینڈ اور مڈ لینڈ میں چھاپے مار کر چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

59 سالہ ملا کریکر کا تعلق عراق سے ہے اور وہ سنہ 1991 میں انھوں نے پناہ لی تھی۔ ناروے کے حکام نے سنہ 2003 میں انھیں عراق واپس بھیجوانے کا فیصلہ کیا تھا

ملا کریکر کے وکیل کا کہنا ہے کہ اُن پر الزام ہے کہ وہ ’ویب سائٹ کے ذریعے تبلیغ‘ کرتے ہیں جبکہ جیل میں گذشتہ چار سال سے قید ہونے کی وجہ سے اُن کے موکل کے پاس انٹرنیٹ نہیں ہے۔

اسی بارے میں