’سعودی عرب کو دیے ہتھیاروں کی تحقیقات ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ یقیناً صرف تردید کافی نہیں، ہمیں باقاعدہ تحقیقات کرنی ہوں گی

برطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کے فضائی حملوں کی باقاعدہ تحقیقات کی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں اور سعودی عرب کی جانب سے محض انسانی حقوق کے قوانین کی قبولیت کافی نہیں ہیں۔’اگر سعودی عرب کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ریاست کے ساتھ برطانوی تجارت بند کرنا ہو گی۔‘

ان کے بیان کو فلاحی تنظیم آس فیم نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ آکسفیم نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے دوران سعودی عرب کو برآمد معطل کر دیں۔

واشنگٹن کے دورے کے دوران نیوز نائٹ اپنے ایک انٹرویو میں فلپ ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ انھوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔

سعودی عرب نے مارچ سے شروع ہونےوالے فضائی حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ ’یقیناً صرف تردید کافی نہیں، ہمیں باقاعدہ تحقیقات کرنی ہوں گی۔‘

’بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین پر عمل درآمد کے لیے ہمیں سعودی حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارے پاس برآمدات کے لائسنس کا نظام ہے جو ایسا نہ ہونے کی صورت میں معطل ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ہم مزید اسلحے کے روانگی روک سکتے ہیں۔‘

آکسفیم کی کی مشرقِ وسطی کے لیے مینیجر نے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’یمن میں انسانی بحران دن بدن بدترین ہوتا جا رہا ہے۔ شہری متاثر ہو رہے ہیں نہ صرف ہتھیاروں سے بلکہ محاصروں سے بھی جس کی وجہ سے لازمی سہولیات اور معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ برطانیہ کو امن کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔ ‘

یمن جاری جنگ اس وقت پھیل گئی جب مارچ میں سعودی عرب کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے حیمن کی حکومت کی مدد کرتے ہوئے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کیے۔

سعودی عرب برطانوی دفاعی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس اس نے سترہ ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے۔

فلپ ہیمنڈ کے مطابق برطانیہ دنیا کے سب سے سخت ترین اصولوں والے لائسنس پر عمل پیرا ہے۔

اسی بارے میں