پیرس حملےدولتِ اسلامیہ کا ’جنگی اقدام‘ ہیں: صدر اولاند

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نےکہا ہے کہ فرانس میں گذشتہ روز ہونے والے حملے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کیے ہیں۔

سنیچر کی صبح اپنے بیان میں صدر نے کہا ہے کہ یہ ایک ’جنگی اقدام‘ ہے اور اس کے پیچھے دولتِ اسلامیہ ہے۔

جمعے کی شب فرانس کے دارالحکومت پیرس میں چھ مقامات پر ہونے والے پرتشدد حملوں میں کم سے کم 127 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

ادھرنام نہاد شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ نے جمعہ کی شب پیرس میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

پیرس حملے: لائیو اپ ڈیٹس

پیرس میں حملوں پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برداری کی مذمت

پیرس میں دھماکے اور فائرنگ:تصاویر

’ہر طرف خون ہی خون، یہاں جنگ ہو رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے فرانس کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے

فرانس کے صدر نے اپنے بیان میں بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد آٹھ تھی جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی بیرونِ ملک ہوئی ہے۔اس موقع پر صدر نے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے سرحدیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی پروسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ حملوں میں کم ازکم 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 99 افراد شدید زخمی ہیں۔

فرانس کے ہسپتالوں ایمرجنسی نافذ ہے اور خون کے عطیات کی اپیل کی جارہی ہے۔

تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے اور فرانزک ٹیمز حملوں کے مقامات پر جا کر شواہد اکھٹے کر رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پیرس کے بٹا کلان تھیٹر میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں کم سے کم 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فرانس میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پیرس کے فٹ بال سٹیڈیم، کانسرٹ تھیٹر اور ریسٹورنٹ سمیت چھ مختلف علاقوں میں مسلح افراد نے حملے کیے جن میں مبینہ خود کش دھماکے شامل ہیں۔

ایمرجنسی نافذ

فرانس کے صدر نے پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد عوام سے خطاب میں کہا کہ شہر میں فوج طلب کر لی گئی ہے اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے فرانس کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے۔ پیرس شہر میں کم سے کم 1500 فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

فرانس مغربی ممالک کے اتحاد میں شام ہے جو شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے۔

پولیس کے آپریشن مکمل ہونے کے بعد فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے بٹاکلان تھیٹر کا دورہ کیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق پیرس میں سٹیڈیم کے باہر تین دھماکے ہوئے ہیں۔ دھماکوں کے وقت سٹیڈیم میں فرانس اور جرمنی کے درمیان دوستانہ فٹبال میچ ہو رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے فرانس کے صدر بھی موجود تھے لیکن انھیں سٹیڈیم سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ حملے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے ہیں یا نہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انھوں ریسٹورنٹ کے باہر دس افراد کو سڑک پر پڑے دیکھا ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے فرانس میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’قابل نفرت دہشت گرد حملے‘ قرار دیا ہے۔

نقل و حرکت میں کمی

پیرس حملوں کے بعد فرانس نے سرحدوں کا کنٹرول سخت کر دیا ہے تاہم فضائی اور ریل سروسز معمول کے مطابق جاری ہیں۔

ملک کے تمام سکول، ہوٹل اور تفریح گاہیں بند کر دی گئی ہیں۔

امریکی ہوائی کمپنیوں نے حملوں کے پیشِ نظر شہر کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم دیگر فضائی کمپنیوں کی پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔

گو کہ پیرس آنے والی بین الاقوامی ٹرین سروس بھی کھلی ہے تاہم لندن سے پیرس آنے والی یورو ٹرین جو مکمل طور پر بُک تھی حملوں کے بعد خالی ہی آئی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برطانوی ایئرلائنز نے پیرس آنے والی پروازوں میں تاخیر کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سکیورٹی چیک بتائی گئی ہے۔

ادھر فرانس حملوں کے بعد اٹلی میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی دورہ فرانس ملتوی کر دیا ہے۔ انھیں سنیچر کو روم اور اتوار کو پیرس پہنچنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسی بارے میں