کرد فورسز نے دولتِ اسلامیہ سے سنجار کو آزاد کروا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کرد حملے کو امریکی قیادت میں جاری فضائی حملوں کی معاونت حاصل ہے

شمالی عراق میں کرد خطے کے رہنما کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز نے سنجار کے قصبے کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے آزاد کروا لیا ہے۔

کوہِ سنجار پر کھڑے کرد رہنما مسعود بارزانی کا کہنا تھا کہ اس قصبے پر قبضے سے موصل کی جانب پیش قدمی کے منصوبوں پر گہرا اثر پڑے گا۔ موصل دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ شمالی عراق کا سب سے بڑا شہر ہے۔

ایک سینیئر جنگجو کا کہنا ہے کہ قصبے کے مکمل طور پر محفوظ ہونے میں کچھ دن لگیں گے۔

اس سے پہلے جمعے کو کرد جنگجو سنجار میں داخل ہوگئے تھے جہاں انھوں نے ایک دن قبل ہی دولتِ اسلامیہ سے علاقہ چھیننے کے لیے حملہ کیا تھا۔

اس کے بعد کردستان ریجنل سکیورٹی کونسل نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ان کی فورسز چاروں جانب سے علاقے میں داخل ہو گئی ہیں اور اسے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے خالی کروایا جا رہا ہے۔

کرد فورسز کی کارروائی کو امریکی قیادت میں جاری فضائی حملوں کے معاونت حاصل تھی۔

اسی اثنا میں عراقی فوج کا کہنا ہے کہ کہ اس نے مغربی شہر رمادی کو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروانے کے لیے حملہ کر دیا ہے۔ عراقی فوج کے بیان کے مطابق اس حملے میں فضائی فوج کی مدد بھی حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ نے سنہ 2014 میں اس علاقے پر قبضہ کیا تھا
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عینی شاہدین کا کہنا تھا کرد فورسز نے سنجار میں پیدل داخلے کے وقت راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ استعمال کیے۔

کردستان ریجنل سکیورٹی کونسل نے ایک دوسری ٹویٹ میں کہا ہے کہ کرد فورسز نے ایک ہسپتال، کئی عوامی عمارات، ایک سیمنٹ فیکٹری اور ایک سائیلو کو محفوظ بنا دیا گیا ہے۔

سنجار کا قبضہ واپس لینے کے لیے جمعرات کو علی الصبح حملہ کیا گیا جس میں ساڑھے سات ہزار جنگجو شامل تھے۔ اتحادی افواج کی جانب سے اسلحے کے ذخیروں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر فضائی حملوں کے بعد باہر جانے کے تینوں راستے بند کر دیے گئے۔

کرد فورسز کے مطابق اندازاً حملے سے قبل سنجار میں دولتِ اسلامیہ کے کم سے کم چھ سو جنگجو تھے۔ جمعرات کو ہونے والے فضائی حملوں میں 60 سے 70 شدت پسند مارے گئے۔

سنہ 2014 میں جب دولتِ اسلامیہ نے اس علاقے پر قبضہ کیا تو یزیدی قبیلے کے ہزاروں افراد کو یہاں سے نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس علاقے سے یزیدی قبیلے کے ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی

اسی بارے میں