کیا یہ یورپ کے خلاف اعلان جنگ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس حملوں میں 127 افراد مارے گئے

پیرس میں حملوں سے خود کو ’دولتِ اسلامیہ‘ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے ایک نیا جہادی اور سٹرٹیجک موڑ لیا ہے۔

یہ نہ صرف دولت اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کو حاصل رسائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں بلکہ مغرب میں اس گروہ کے ہمدردوں کی تعداد میں اضافے کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ حملے معاشرے کو مزید تقسیم کر دیں گے، جس سے اس جہادی گروہ کو یورپ میں نئے ارکان کو بھرتی کرنے میں مزید آسانی ہو گی۔

حملہ آوروں کی تین ٹیموں نے پیرس میں کارروائی کی

پیرس حملوں کے بعد کی صورتحال کی لائیو اپ ڈیٹس

ان حملوں میں ریستورانوں، بار، سٹیڈیم اور ایک کنسرٹ ہال کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

ناروے کی وزارتِ دفاع کے تحقیقاتی ادارے ’ڈیفنس ریسرچ اسٹیبلشمنٹ‘ کے سینیئر رکن اور کتاب ’اسلامسٹ ٹیررزم ان یورپ‘ کے مصنف، ڈاکٹر پیتر نیسر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ عرصے میں یورپ میں دہشت گردی کے بلاتفریق حملوں کا ایک مقصد یورپ میں شدت پسندی کو فروغ دینا اور اس کا سٹریٹیجک مقصد یورپی ممالک کو مشرق وسطی میں فوجی مداخلت کرنے سے باز رکھنا بھی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس حملوں میں 300 افراد زخمی ہوئے

مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے ماہر کامران بخاری کے مطابق ’سافٹ ٹارگٹس‘ کے انتخاب کی وجہ سے ایک وقت میں ایک سے زیادہ جگہوں پر حملے کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف بہیمانہ ہیں، بلکہ ان کا مقصد اپنی صلاحیتوں کی نمائش کرنا بھی ہے۔

’دولت اسلامیہ نے ثابت کیا کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں سے باہر بھی کسی مقام پر اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ بھی کر سکتے ہیں۔‘

پیرس میں ہونے والے حملوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس نے خود کو پہلے سے زیادہ منظم کیا ہے جس سے یہ زیادہ مہلک ہوگئی ہے اور کسی مقام پر شدت پسندی کی ایک بڑی کارروائی کی باقاعدہ منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر پیتر نیسر کا کہنا ہے کہ’عام طور پر تو اس قسم کے حملوں کے لیے تجربہ اور نفسیاتی تیاری چاہیے ہوتی ہے۔‘

تاہم کامران بخاری کہتے ہیں کہ اگر دولت اسلامیہ کی ذمہ داری قبول کرنے کے بیانات مصدقہ ہیں تو اب دولت اسلامیہ محض ایک دہشت گروپ نہیں رہا، بلکہ ’ایک منظم عسکری قوت ‘بن کر سامنے آئی ہے جس کے پاس خفیہ معلومات سمیت دیگر عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔

’اس قسم کے بین الابراعظمی حملے وسیع لاجسٹکس، تربیت، وسائل اور ایک انٹیلی جنس سروس کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ دولت اسلامیہ اب ایک بظاہر ریاست جیسا برتاؤ کر رہی ہے۔‘

یورپ میں شدت پسندی کے خدشات کافی عرصے ظاہر کیے جا رہے ہیں اور اسے زیادہ خطرہ انفرادی طور پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں سے تھا لیکن پیرس کے حملوں نے اس رائے کو تبدیل کر دیا ہے اور پہلی بار کسی جہادی گروپ نے اس نوعیت کا منظم حملہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پیرس حملوں کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے

کامران بخاری کہتے ہیں کہ 2008 کے ممبئی اور پیرس حملوں میں مماثلت پائی جاتی ہے کیونکہ دونوں کا مقصد مختلف گروپوں میں تقسیم ہو کر شہر میں دہشت پھیلا کر میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنا تھا۔

’ان حملوں کا مقصد سماج میں تقسیم سے دہشت گردی کو فروغ دینا ہے‘

ایک بیان میں دولتِ اسلامیہ نے خبردار کیا ہے کہ ’فرانس اور وہ ممالک جو اس کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں انھیں معلوم رہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے اہداف میں سرِفہرست ہیں۔ پیرس پر حملہ ایک طوفان کا آغاز ہے اور سننے اور سمجھنے والوں کے لیے ایک وارننگ ہے۔‘

تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ دولتِ اسلامیہ جیسے گروپوں کے آگے آنے، زمین پر بڑھتے ہوئے کنٹرول، غیر ملکی جنگجوؤں کے نیٹ ورک اور جنگ کے تجربے سے مستقبل میں پیرس جیسے دہشت گردی کی کارروائیوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پیرس میں ایک وقت میں کئی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا

ڈاکٹر نیسر کہتے ہیں ’یورپ میں ایسے منصوبوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ طے کرنا قبل از وقت ہے مگر اس بات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا کہ پیرس میں جو کچھ ہوا وہ یورپ میں دولت اسلامیہ کے حملوں کا آغاز ہو۔‘

ڈاکٹر نیسر کے مطابق جہادیوں کے دشمنوں کی فہرست میں فرانس بہت اوپر ہے۔ وہ اس سلسلے میں 1990 میں الجیریا میں فرانس کی وابستگی، مالی کے آپریشن اور شام میں فرانس کے کردار کا حوالہ دیتے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق یورپ میں اس برس 16میں سے سات واقعات فرانس میں ہوئے جبکہ چار منصوبے تکمیل کے مراحل تک پہنچ گئے۔ فرانس سے ہی سب سے زیادہ افراد لڑنے کے لیے باہر گئے ہیں جن میں شام اور عراق جانے والے شدت پسندوں کی تعداد لگ بھگ 1200 کے قریب ہے۔

کامران بخاری کے خیال میں پیرس کا حملہ جہادیوں کی طرف سے ایک طرح کی ’سرمایہ کاری‘ ہے جس کا مقصد ایسی صورتِ حال پیدا کرنا ہے جس سے مغربی حکومت کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں جہادیوں کو مزید کارکن مل جائیں۔

وہ کہتے ہیں یہ حملے یورپ میں ان بڑھتے ہوئے ناراض نوجوانوں کی ترجمانی کرتے ہیں جنھیں عالمی جہادی نیٹ ورکس کی طرف سے ٹھکانہ مل رہا ہے اور یہ صورتِ حال اپنی بقا کی خود ضامن ہے۔

’شدت پسند جانتے ہیں کہ ان حملوں سے وہ مسلمانوں اور مغربی ممالک کے درمیان خلیج کو مزید بڑھا سکتے ہیں، کشدیدگی کو ہوا دے سکتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف جذبات کو بڑھکا سکتے ہیں جس سے انھیں بڑے پیمانے پر تازہ خون مہیا ہو جائے گا۔‘

فرانس کی سیانس پو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسیم الڈفرائی کا کہنا ہے کہ حملہ آور اور ان کے پروفائلوں پر توجہ کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

’جب بھی کوئی حملہ ہوتا ہے، تمام توجہ حملے آور کے بجائے حملے پر چلی جاتی ہے۔ حملہ آور آخر کون ہیں؟ ان میں سے بہت سے فرانسیسی معاشرے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ لیکن نظریاتی عوامل کو مستقل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ’تقسیم ، انتہا پسندی کے لیے انتہائی سازگار ہوتی ہے۔ حملہ آور چاہتے تھے کہ مسلمان بدنام ہوں چونکہ اس سے فرانسیسی معاشرے میں متضاد رجحانات بڑھیں گے۔افراتفری پھیلے گی اور دہشت گردی کو فروغ ملے گا۔‘

ان کے خیال میں فرانس میں مستقبل میں علاقائی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی تاریخی جیت کا قوی امکان ہے اور یہ فتح معاشرے میں تقسیم کو بڑھانے میں مددگار ہوگی اور تازہ ترین حملے اس کو مزید ہوا دیں گے۔

ان کے مطابق ’ دائیں بازوں کی جماعتوں کی جیت سے پریشان مسلمانوں کا انتہا پسند تنظیموں میں شامل ہونے کا امکان مزید بڑھ جائے گا‘۔

اسی بارے میں