پیرس کے چھ مقامات اور آٹھ حملہ آور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرانس میں پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کو دارالحکومت پیرس میں آٹھ حملہ آوروں نے حملہ کیا جو سب کے سب مارے جا چکے ہیں۔

پولیس کی فرانزک ٹیمیں مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں کے مقامات پر جاکر شواہد اکھٹے کر رہی ہیں۔ پیرس میں 1500 اضافی فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق بٹاکلان وینیو میں داخل ہونے والے چار حملہ آوروں میں سے تین نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ ایک کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کیا۔

پیرس حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک

’ہر طرف خون ہی خون، دہشت ناک منظر تھا‘

پیرس میں حملوں پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی مذمت

کانسرٹ ہال سے کچھ فاصلے پر ولٹیئر کے مقام پر پولیس کے مطابق ایک اور حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا، جبکہ تین دیگر حملہ آوروں کو سٹڈ دا فرانس کے باہر مارا گیا ہے اور مزید ایک حملہ آور نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی جس کے باعث حملہ آور نے خود کو اڑا لیا۔

ان حملوں میں کم سے کم 128 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ زخمی ہونے والے 200 میں سے 99 کی حالت تشویش نا ک ہے۔

حملہ آوروں نے دارالحکومت پیرس کے فٹ بال سٹیڈیم، ریسٹوران، بار اور ایک کانسرٹ ہال میں خود کش حملے اور اندھا دھند فائرنگ کی۔

ان حملوں کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں:

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

رات نو بجے کے بعد پیرس کے ان علاقوں میں سلسلہ وار حملوں کا آغاز ہوا جہاں رات میں زیادہ تر لوگ جاتے ہیں۔ یہ علاقہ دا لا ریپبلک سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے۔

پہلی گولی لی کیریون میں چلی، جہاں عینی شاہدین نے ابتدائی طور پر اسے کوئی آتش بازی سمجھا لیکن بعد میں لوگوں کو معلوم ہوا کے ایک شخص جس نے نقاب نہیں پہنا تھا اور نیم خودکار گن سے اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ انھوں نے ایک شخص کو بڑے اسلحےکے ساتھ گاڑی سے اترتے دیکھا۔

عینی شاہد نے بتایا کہ اس شخص نے پھر اپنی گن کا رخ ریستوران لی پتی کمبوج کی جانب کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں دس سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کچھ ہی منٹ بعد میک ڈونلڈ کے باہر بھی فائرنگ کا اطلاع ملی۔ اطلاعات کے مطابق وہاں سڑک پر گری ایک موٹر سائیکل اور گولیوں سے بھری ہوئی گاڑی ملی تھی۔

سٹڈ دا فرانس فٹبال سٹیڈیم میں جہاں فرانس اور جرمنی کے درمیان ایک بین الاقوامی دوستانہ میچ کھیلا جا رہا تھا۔ میچ شروع ہونے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد پہلے دھماکے کی آواز سنی گئی۔ جس کے بعد صدر کو سٹیڈیم سے بہ حفاظت نکال لیا گیا۔

اگلی فائرنگ کی اطلاعات بار لا بیلے ایکیپ سے آئیں۔ دو افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا جو کیفے کی جانب گولیاں برسا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سب سے زیادہ مہلک حملہ بٹاکلان تھیٹر میں پر ہوا جہاں اس وقت امریکی راک بینڈ ’ایگلز آف ڈیتھ میٹل‘ پرفارم کر رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق کئی حملہ آور ہال میں داخل ہوئے اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ ان حملہ آوروں میں سے ایک نے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

جس کے بعد انھوں نے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا۔

اسی بارے میں