’شام میں روسی کارروائیوں سے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف اقدامات پر امریکہ اور روس کا آپس میں تعاون اہم تھا

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ شام میں روس کی فوجی کارروائیوں سے یورپ آنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ترکی میں جی 20 اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ’روس کو نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ اعتدال پسند شامی حزب اختلاف پر۔‘

’پیرس حملوں کو مہاجرین کے مسئلے کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے‘

کیا یہ یورپ کے خلاف اعلان جنگ ہے؟

جو امریکہ نہ کر سکا روس کرسکےگا؟

روس کا کہنا ہے کہ وہ فضائی حملوں میں دولت اسلامیہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔

تاہم بعض مغربی ممالک کو اس بات کا ڈر ہے کہ ان کارروائیوں کا اصل مقصد روس کے اتحادی شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار کو قائم رکھنا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یورپی کمیشن کے سربراہ یان کلاڈ ینکر نے تنبیہ کی تھی کہ پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد یورپی ممالک کو مہاجرین کو قبول نہ کرنے کا ’رد عمل‘ نہیں دینا چاہیے۔

عالمی رہنماؤں کے جی 20 اجلاس میں مقصد خصوصی طور پر اقتصادی معاملات پر بات کرنا ہوتا ہے لیکن اس بار ترکی کے ساحلی شہر اناتالیہ میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں زیادہ بات پیرس میں ہونے والے بڑے حملوں پر ہو رہی ہے۔

جمعے کو پیرس میں ہونے والے ان حملوں میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ’شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف اقدامات پر امریکہ اور روس کا آپس میں تعاون اہم تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption روس کا کہنا ہے کہ وہ فضائی حملوں میں دولت اسلامیہ کو نشانہ بنا رہا ہے

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں نہ صرف مزید تعاون کی ضرورت ہے بلکہ نیک نیتی بھی ضروری ہے خاص طور پر شام میں روسی اقدامات کے حوالے سے۔‘

’انھیں زیادہ توجہ دولت اسلامیہ پر دینی چاہیے نہ کہ شامی حزب اختلاف پر، کیونکہ ہمیں یہ قبول نہیں ہے۔‘

انھوں نے تنبیہ کی ہے کہ روسی حملوں کے نتیجے میں ’صرف مہاجرین کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہمیں ایسے کچھ اشارے ملے ہیں اصل میں ایسا شروع ہو گیا ہے۔‘

امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ ’پیرس میں ہونے والا قتل عام دراصل مہذب دنیا پر حملہ ہے۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں شام میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے کوششوں کو ’دوگنا‘ کرنے کی ضرورت ہے۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان نے کہا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر کے ساتھ ایک اتحاد میں رہ کر نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی پر آئندہ کیے جانے والے اقدام کا جائزہ لیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’عالمی رہنماؤں کو شدت پسندی کے خلاف سخت اور مضبوط پیغام دینا چاہیے۔‘

اسی بارے میں