پیرس میں حملے کرنے والے کون تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پیرس میں جمعے کی شب ہونے والے حملوں میں 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے

پیرس میں ہونے والے حملوں کی تحقیقات میں حکام نے سات ممکنہ حملہ آوروں کے نام بتائے ہیں۔

ان سات میں سے ایک کو بیلجیئم میں پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد بغیر کوئی فردِ جرم عائد کیے رہا کر دیا ہے۔

پیرس حملوں کی تحقیقات اور گرفتاریاں: ویڈیو رپورٹ

ہم دولت اسلامیہ کو تباہ کر دیں گے: فرانسوا اولاند

پیرس حملوں کے بعد: لائیو اپ ڈیٹ

رہا کیے جانے والے شخص محمد عبدالسلام کے بھائی براہیم ان حملہ آوروں میں سے ایک تھے جنھوں نے باتاکلان تھیئٹر میں خودکش حملہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ جمعے کو حملوں کے دوران ہلاک ہونے والے دیگر دو حملہ آوروں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

اب تک جن حملہ آوروں کے نام سامنے آئے ہیں ان کا مختصر پروفائل پیش ہے:

صالح عبدالسلام

Image caption صالح ان دو حملہ آوروں میں شامل ہیں جنھیں بلجیئم کے حکام پہلے سے جانتے تھے

26 سالہ فرانسیسی شہری صالح عبدالسلام کو پیرس حملوں کا مرکزی ملزم سمجھا جا رہا ہے اور پولیس ان کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

ان کے بارے میں خیال ہے کہ انھوں نے بیلجیئم میں گاڑی کرائے پر حاصل کی تھی۔ یہ گاڑی بعد میں باتاکلان تھیئٹر کے قریب سے ملی تھی۔

فرانسیسی پولیس نے حملوں کے کچھ گھنٹوں بعد ہی بیلجیئم کی جانب سفر کرنے والی اس کار کو روکا تھا جس پر عبدالسلام بھی سوار تھے۔

پولیس افسران نے اس سے سوالات کیے اور شناختی دستاویزات دیکھ کر انھیں سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔

اب اس کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ پولیس نے صالح عبدالسلام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ اس کے قریب جانے سے گریز کیا جائے۔

فرانسیسی نیوز چینل بی ایف ایم ٹی وی نے تحقیقات کرنے والے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صالح ان دو حملہ آوروں میں شامل ہیں جنھیں بلجیئم کے حکام پہلے سے جانتے تھے۔

براہیم عبدالسلام

صالح کا بھائی براہیم بولیوار وولیتئر کے قریب کیفے پر حملے میں خودکش جیکٹ کے دھماکے میں ہلاک ہو گیا۔

31 سالہ براہیم نے ایک گاڑی کرائے پر حاصل کی تھی جو حملوں کے بعد حکام کو مل گئی ہے۔

براہیم اس سے پہلے بیلجیئم کی پولیس کے ریکارڈ میں موجود ہیں اور اس کے ساتھ پیرس حملوں کے مشتبہ سرغنہ عبدل حامد عبود کا نام بھی پولیس کی کئی فائلز میں موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عبدالحامد عبود کے بارے میں خیال ہے کہ اس وقت وہ شام میں ہیں اور دولتِ اسلامیہ کے ساتھ ہیں

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق وہ 2010 اور 2011 میں جرائم میں ملوث تھے۔ بیلجیئم کے دی سٹینڈرڈ اخبار کے مطابق حکام براہیم کے ورویہ شہر میں جنوری میں پیش آنے والے والے واقعے سے ممکنہ تعلقات کے پہلو پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ جنوری میں پولیس کو پولیس اہلکاروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہ کا علم ہوا تھا اور اس پر کارروائی میں دو شدت پسندوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

براہیم اور عبدالحامد برسلز کے ضلع مولنبئک کے رہائشی ہیں۔ اس ضلعے میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور حکام اس علاقے کو’جہادیوں کی افزائش گاہ‘ قرار دیتی ہے۔

27 سالہ عبدالحامد عبود کے بارے میں خیال ہے کہ اس وقت وہ شام میں ہیں اور دولتِ اسلامیہ کے ساتھ ہیں۔

عمر اسماعیل مصطفیٰ

29 سالہ فرانسیسی شہری عمر اسماعیل باتاکلان پر حملے کے دوران ہلاک ہوئے۔

عمر پیرس کے مضافات میں رہائش پذیر تھے۔ ترکی کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ عمر 2013 میں ترکی میں داخل ہوئے لیکن ان کی واپسی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ اکتوبر 2014 میں فرانس کی جانب سے چار مشتبہ شدت پسندوں کی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

چار مشتبہ شدت پسندوں کی تفتیش کے دوران ایک پانچویں شخص عمر اسماعیل کی شناخت ہوئی اور اس کے بارے میں فرانسیسی حکام کو دو بار دسمبر 2014 اور جون 2015 میں آگاہ کیا گیا۔

تاہم فرانسیسی حکام کی جانب سے اس پر کوئی جواب نہیں آیا لیکن پیرس حملوں کے بعد اب فرانس کی جانب سے عمر اسماعیل کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اس سے پہلے فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا تھا کہ عمر اسماعیل نامی حملہ آور کے بارے میں خفیہ اداروں نے 2010 میں خبر دی تھی کہ وہ انتہا پسندی کی جانب مائل ہوا ہے لیکن اس کے کسی شدت پسند گروپ کا حصہ بننے کی معلومات نہیں تھیں۔ ابھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا عمر کبھی شام گئے تھے یا نہیں۔

احمد المحمد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور مختلف مقامات پر پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہیں

25 سالہ احمد المحمد کا تعلق شام کے شہر ادلب سے ہے۔ ان کا پاسپورٹ پیرس کے فٹبال سٹیڈیئم کے باہر اس جگہ سے ملا ہے جہاں خودکش حملہ کیا گیا۔ حکام کے خیال میں یہی خودکش حملہ آور تھے۔

حکام تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ پاسپورٹ اصلی ہے اور ہو سکتا ہے کہ حملہ آور کی یہ اصل شناخت نہ ہو۔ پیرس کے پراسیکیوٹر آفس کے مطابق حملہ آور کی انگلیوں کے نشان اس شخص سے ملتے ہیں جو شامی پناہ گزینوں کے ساتھ اکتوبر میں یونان پہنچا تھا۔

بلال ہدفی

20 سالہ بلال کا نام ان حملہ آوروں میں شامل ہے جو سٹیڈیئم کے باہر مارے گئے۔ یہ فرانسیسی شہری تھے لیکن بیلجیئم میں رہائش پذیر تھے۔

بعض اطلاعات کے مطابق بلال شام میں دولتِ اسلامیہ کے لیے لڑ چکے ہیں۔

سمیع عمیمور

28 سالہ سمیع عمیمور نے باتاکلان تھیٹر میں خودکش حملہ کیا تھا۔ یہ بھی فرانس کے شہری تھے اور پیرس کے قریب رہائش پذیر تھے۔

ان کو پہلے فرانسیسی انٹیلیجنس حکام پہلے سے جانتے تھے۔ ان پر 2012 میں یمن جانے کی منصوبہ بندی پر شدت پسندی کا الزام لگایا گیا تھا۔ ان کو عدالتی نگرانی میں رکھا گیا تھا لیکن بعد میں یہ غائب ہو گئے۔ 2013 میں ضمانت کی خلاف ورزی کرنے کے بعد ان کی گرفتاری کے بین الاقوامی وارنٹ جاری کر دیے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے تین رشتہ داروں کو پیرس حملوں کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔

محمد عبدالسلام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صالح کے بھائی محمد عبدالسلام کو بیلجیئم میں پولیس نے سنیچر کو حراست میں لینے کے بعد پیر کے روز بغیر کو کوئی الزام عائد کیے رہا کر دیا۔

محمد عبدالسلام کی وکیل نیٹلی گیلنلٹ نے کہا کہ ان کے موکل کو ان کے بھائی کی موت کی اطلاع صرف ایک گھنٹے قبل ملی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر خبروں میں آنے کے بعد ان کے موکل کی زندگی کا مقصد اب اپنے خاندان کی خدمت کرنا ہے اور اُسی جگہ اپنی ملازمت کو برقرار رکھنا ہے جہاں وہ دس برس سے کام کر رہے ہیں۔

ان کے بھائی نے رہائی کے بعد کہا کہ ان کے خاندان کو نہیں معلوم کہ صالح کہاں ہیں۔

اسی بارے میں