’شامی بھی پیرس والوں کی طرح معصوم ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پیرس میں حملوں کے بعد فرانس نے شام میں اپنے آپ کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم کے مختلف ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں ٹوئٹر پر شام کے لیے دعاؤں کا ٹرینڈ شروع ہو گیا ہے۔

اس ٹرینڈ میں دنیا بھر سے ہزاروں افراد شام میں تشدد کے مختلف واقعات، حملوں، دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک، زخمی اور بے گھر ہونے والے افراد خصوصاً بچوں کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں۔

’پیرس ہی نہیں انسانیت کے لیے دعا کریں‘

ذیل میں چند ایسی ٹویٹس نمونے کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

’معصوم بچے بغیر کسی جرم کے قتل ہو رہے ہیں، انصاف کہاں ہے؟ کیا مسلمانوں کا خون پانی ہے اور دوسروں کا خون سرخ؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

’اللہ اکبر کہہ کر لوگوں کی گردنیں کاٹنے سے یہ جائز نہیں ہو جائے گا۔ اسی طرح ہی جیسے بسم اللہ پڑھنے سے شراب جائز نہیں ہو جاتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

’معصوم لوگ اس طرح کے سلوک کے مستحق نہیں۔ ان قسم کے حملوں کے پیچھے کارفرما لوگوں کو صرف اس بنیاد پر کہ وہ کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں، دوسروں کی جانیں لینے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

شام کے لیے دعاؤں کے ہیش ٹیگ میں شیئر کی جانے والی تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا: ’شام کے لیے دعاؤں کے ہیش ٹیگ میں شیئر کی جانے والی تصاویر میرے لیے اب تک دیکھی جانے والی تصاویر میں بدترین ہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں کیسے رہ سکتے ہیں جس میں اس قسم کے مصائب اب بھی ہوتے ہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

فرانس کی جانب سے شام پر فضائی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے محمد الیاس خان نے لکھا: ’اگر حملہ آور فرانسیسی شہری تھے تو فرانس کو پہلے ان کی پناہ گاہوں پر بمباری کرنی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

’شام کے شہریوں کو مارا نہیں جانا چاہیے۔ وہ معصوم ہیں اسی طرح جس طرح پیرس میں حملوں کا شکار ہونے والے ہیں۔‘

دوسری جانب فیس بُک کو پیرس حملوں کے بعد اپنی ویب سائٹ پر ایک ’سیفٹی چیک‘ فیچر شروع کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس پر اعتراض کرنے والے لکھتے ہیں کہ ایسا بیروت کے بارے میں کیوں نہیں کیا گیا جہاں ایک دن قبل ہی دھماکوں میں چالیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فیس بُک پر امتیاز برتنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ ’اپنے اقدمات سے فیس بک نے یہ ظاہر کیا ہے کہ مغربی متاثرین کی جانوں کو مشرق وسطیٰ کے متاثرین سے زیادہ ترجیح ملنی چاہیے۔‘

لبنان کے ایک بلاگر جوئی ایوب نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’دو بدترین راتیں پیش آئی ہیں۔ پہلی رات میں بیروت کے شہر میں 40 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں اور دوسری میں 100 لوگوں سے زائد لوگ ہلاک ہوئے۔ لیکن مجھ پر یہ بھی ظاہر ہو چکا ہے کہ بیروت میں میرے لوگوں کی جانیں پیرس کے لوگوں کی جانوں جتنی قیمتی نہیں ہیں۔‘

انھوں نے فیس بُک کی جانب سے ’سیفٹی بٹن‘ نہ دینے اور دنیا کی سب سے اہم شخصیات اور سیاست دانوں کی جانب سے کوئی بیان جاری نہ ہونے کا بھی شکوہ کیا۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے سوشل میڈیا پر ملنے والی تنقید کے رد عمل میں کہا کہ: ’کئی لوگوں نے بالکل صحیح طور پر پوچھا ہے کہ ہم نے پیرس کے لیے اپنا حفاظتی فیچر کیوں لاگو کیا اور بیروت اور دیگر مقامات کے لیے نہیں۔ کل سے پہلے اس فیچر کے سلسلے میں ہماری پالیسی صرف قدرتی آفتوں تک لاگو ہوتی تھی۔ ہم نے اسے ابھی بدلا ہے اور آئندہ پیش ہونے والی انسانی آفتوں کے لیے بھی اسے استعمال کریں گے۔‘

مارک زکربرگ نے امتیاز برتنے کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ہم ’سب لوگوں کا خیال برابری سے کرتے ہیں اور لوگوں کی اس طرح کے نامساعد حالات میں مدد کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔‘

اسی بارے میں