’مسلمانوں کا داخلہ ممنوع‘ کے فیس بک پیغام پر خاتون گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption بلنکس آف بسٹر‘ نے فیس بک پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ وہ ’اسلامی عقیدے‘ سے تعلق رکھنے والے کسی صارف کی بکنگ نہیں لیں گے

برطانیہ کے شہر اوکسفرڈ میں ایک بیوٹی سیلون کے فیس بک صفحے پر مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پیرس میں جمعے کو ہونے والے حملوں کے بعد ’بلنکس آف بسٹر‘ نے اپنے فیس بک کے صفحے پر یہ پیغام شائع کیا جس کے نتیجے میں پولیس نے اس 43 سالہ خاتون کو حراست میں لے لیا۔

پیرس میں حملے کرنے والے کون تھے؟

مشتبہ حملہ آور کے طور پر سکھ پیروکار کی تصویر وائرل

’بلنکس آف بسٹر‘ نے فیس بک پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ وہ ’اسلامی عقیدے‘ سے تعلق رکھنے والے کسی صارف کی بکنگ نہیں لیں گے۔

پیغام کے بعد کئی لوگوں نے اپنے رد عمل میں بیوٹی سیلون پر تنقید کرتے ہوئے اس کے فیس بک کے صفحے پر سینکڑوں پیغامات چھوڑے ہیں۔

ایک شخص لنڈا سٹبس نے لکھا: ’آپ کے نفرت انگیز پیغام کے بعد آپ کے کاروبار کو ایک نئی پہچان اور برانڈ کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ’بسٹر کا متعصب سیلون‘ زیادہ مناسب رہے گا۔‘

سکاٹ ووڈس نے لکھا: لوگ جہالت پر نقلی پلکیں تو لگا سکتے ہیں لیکن اُسے تعلیم نہیں فراہم کر سکتے۔ آپ کو ابھی ’بہت کچھ‘ سیکھنا ہے، آپ نسل پرست اور جاہل ہیں۔‘

جمعے کی رات کو پیرس میں آٹھ اسلامی شدت پسند جنگجوؤں نے سلسلہ وار حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں 129 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

جب بی بی سی نے بلنکس آف بسٹر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو سیلون کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

فیس بک کے جس صفحے پر بلنکس آف بسٹر نے اپنا پیغام شائع کیا تھا اب اسے ہٹا دیا گیا ہے۔

خاتون کو ایسے تحریری مواد کی نمائش کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا جن کا مقصد نسلی منافرت پھیلانا، لوگوں کی توہین کرنا، انھیں دھمکی دینا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے عوام کی جانب سے کی جانے والی شکایات کے بعد واقعے کی تفتیش شروع کی۔

سارجنٹ سٹیو ڈکسن نے کہا: ’ٹیمز ویلی پولیس نسلی امتیاز کو فروغ دینے کے تمام الزامات کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے اور ہمیشہ ان کی تحقیقات کرے گی۔‘

اس خاتون کو اب ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں