تہذیبوں کا تصادم نہیں دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ ہے: کیری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’امریکی ہمیشہ آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور آج ہم سب فرانسیسی ہیں‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پیرس حملوں کے بعد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو ’نفسیاتی مرض میں مبتلا عفریت‘ قرار دیا ہے۔

جان کیری پیرس میں فرانسیسی صدر سے ملاقات کے لیے پہنچے ہیں۔

انھوں نے یہ بات پیرس میں امریکی سفارتخانے میں کہی۔ انھوں نے فرانس کو امریکہ کا سب سے پرانا دوست اور اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے حملوں کا جواب یکجہتی ہے۔

’امریکی ہمیشہ آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ آج ہم سب فرانسیسی ہیں۔‘

ہم دولت اسلامیہ کو تباہ کر دیں گے: فرانس

فرانس کو مشتبہ حملہ آور کی تلاش

کیا یہ یورپ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے؟

پیرس حملے: کب کیا ہوا؟

پیرس میں دعائیہ تقریبات

پیرس میں حملوں پر خصوصی ضمیمہ

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ تہذیبوں کا تصادم نہیں ہے۔ دولت اسلامیہ ’نفسیاتی مرض میں مبتلا عفریت ہے جن میں کسی قسم کی تہذیب نہیں ہے۔‘

اس سے قبل فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کو ہونے والے حملوں کے بعد فرانس خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کو تباہ کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

فرانسوا اولاند نے مزید کہا کہ عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف جاری فرانس کی فوجی کارروائیوں میں بھی مزید شدت لائی جائے گی۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں امریکی صدر باراک اوباما اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ دولت اسلامیہ کے خلاف آئندہ کے اقدامات کے حوالے سے ملاقاتیں کریں گے۔

انھوں نے شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار میں رہنے کی مخالفت تو کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ شام میں ’ہمارا اصل دشمن دولت اسلامیہ ہے۔‘

اس سے قبل فرانس میں حکام کا کہنا تھا کہ فرانس کے مختلف علاقوں میں مشتبہ اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کے خلاف سلسلہ وار چھاپوں کے دوران 23 افراد کوگرفتار کیا گیا ہے جبکہ درجنوں ہتھیار بھی قبضے میں لیےگئے ہیں۔

ان چھاپوں کا سلسلہ پیرس میں ریستوران، شراب خانوں، کنسرٹ ہال اور ایک سٹیڈیم پر ہونے والے مختلف حملوں کے بعد شروع کیا گیا ہے۔ جمعے کو ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

بیلجیئم کی پولیس کا کہنا ہے سنیچر کو گرفتار کیے جانے والے سات افراد میں سے دو پر پیرس حملوں میں ملوث ہونے کے باعث فردِ جرم عائد کی گئی ہے جبکہ باقی پانچ افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق:’دو افراد پر دہشت گردی کے اقدام اور پر تشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے فرد جرم عائد کی گئی ہے۔‘

اس سے قبل فرانس نے اعلان کیا تھا کہ پیرس میں حملے میں سے دو خودکش حملہ آوروں احمد المحمد اور سامی عمیمور کو شناخت کر لیا گیا ہے۔

المحمد نے فرانس سٹیڈیئم میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی لاش کے نزدیک پایا جانے والا پاسپورٹ اصلی ہے تو اس صورت میں وہ دس ستمبر 1990 کو شام کے شہر ادلب میں پیدا ہوئے تھے۔

اسی بارے میں