یمن کے جلاوطن صدر کی وطن واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آٹھ ماہ سے جاری اس جنگ میں اب تک 5600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

یمن کے سرکاری حکام کا کہنا ہے جلاوطنی اختیار کرنے والے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی عدن واپس لوٹ آئے ہیں جہاں وہ باغیوں کے زیرِ تسلط علاقے تعز میں کیے جانے والے نئے حملے کی نگرانی کریں گے۔

غیر ملکی افواج سے کارروائی کا مطالبہ

یمن میں امریکی ڈرون حملہ

بمباری عالمی قوانین کی خلاف ورزی

سعودی عرب اور ایران کی جنگ یمن میں

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ہادی کتنے دن تک ملک میں قیام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ اس سے قبل ستمبر میں بھی عدن واپس لوٹ آئے تھے۔

خیال رہے کہ یمنی صدر رواں سال مارچ کے اواخر میں ملک چھوڑ کر ہمسایہ ملک سعودی عرب چلے گئے تھے۔ جس کے بعد وہاں موجود حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں سعودی حکومت نے صدر ہادی کی فوج کی مدد کے لیے فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ سعودی فوج نے بعد ازاں وہاں اپنی زمینی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

Image caption صدر ہادی مارچ میں ملک سے سعودی عرب چلے گئے تھے

اعداد و شمار کے مطابق آٹھ ماہ سے جاری اس جنگ میں اب تک 5600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یمن کے شہر عدن کے ضلع کریتر میں واقع صدارتی محل ماشق میں قیام کریں گے۔

وہ ایک ایسے وقت میں ملک واپس لوٹے ہیں جب یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ ان کی حامی فوجوں نے تعز کے اردگرد کے جنوب مغربی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے طبی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ گذشتہ روز باغیوں اور یمنی فوج کے درمیان جاری لڑائی میں دونوں جانب 45 جنگجو ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اتحادی فوجوں کے جنگی جہازوں نے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر متعدد بار حملے کیے۔

اقوامِ متحدہ یمن جنگ روکنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اگرچہ اس عرصے میں چند بار عارضی جنگ بندی تو ہوئی تاہم مکمل کامیابی نہیں مل سکی۔ اس سلسلے میں تازہ مذاکرات رواں ماہ کے آخر میں ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں