سینا میں تباہ ہونے والا روسی طیارہ دہشت گردی کا نشانہ بنا: روس

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

روس کے سکیورٹی چیف نے کہا ہے کہ مصر کے علاقے سینا میں تباہ ہونے والے روسی مسافر طیارے کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

سکیورٹی کے سربراہ نے روسی صدر ولادی میر پوتن کو مطلع کیا ہے کہ ’جہاز کے ملبے سے بیرونی دھماکہ خیز مواد کے نمونے ملے ہیں۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ روسی صدر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ روسی جہاز کی تباہی کے ذمہ دار افراد کو ڈھونڈ نکالیں گے۔

کوگلیماویا نامی کمپنی کا ایئر بس اے 321 طیارہ بحیرۂ احمر کے کنارے واقع مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ سے روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کے لیے پرواز کے 23 منٹ بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

’طیارے کی تباہی کی وجوہات پر قیاس آرائیوں سے گریز کریں‘

روسی جہاز کی تباہی کی ممکنہ وجہ بم: امریکہ و برطانیہ

’سینا میں طیارہ دولتِ اسلامیہ نے نہیں گرایا‘

روسی طیارہ مصر میں گر کر تباہ، 224 افراد ہلاک

اس حادثے میں 224 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے بیشتر روسی تھے۔

اس سے قبل امریکی اور برطانوی حکام نے کہا تھا کہ انٹیلیجنس کے اندازوں کے مطابق روسی جہاز کو بم کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی اس بارے میں رسمی طور پر کسی نتیجے پر پہنچنا ابھی باقی ہے۔

اس سے پہلے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے طیارہ تباہ کرنےکا دعویٰ بھی کیا تھا۔

تاہم اس انٹیلیجنس اندازے کے بعد روسی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ جہاز کی تباہی کے بارے میں جو وجوہات بتائی جا رہی ہیں وہ قیاس آرائیاں ہیں۔

بیان میں کریملن کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’یہ جہاز کیسے تباہ ہوا اور کیا ہوا، اس کے بارے میں اسی وقت کوئی حتمی بات کی جا سکتی ہے جب تحقیقات مکمل ہو جائیں گی اور ہم نے تحقیقات کے بارے میں کوئی خبر نہیں سنی۔‘

برطانوی سکیورٹی سروس کو شبہ ہے کہ جہاز اڑنے سے کچھ دیر قبل کسی ایسے شخص نے سامان میں یا اس کے اوپر دھماکہ خیز آلہ نصب کیا جسے جہاز کے سامان رکھنے کی جگہ تک رسائی حاصل تھی۔

دولتِ اسلامیہ سے منسلک صحرائے سینا کی ایک عسکریت پسند تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ جہاز اس نے تباہ کیا ہے، لیکن مصر اور روس دونوں نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں